کمپنیوں نے ادویات کی قیمتیں بڑھا دیں، نوٹس دے دیا ہے، وزیر صحت کی دلچسپ منطق
نئے انتظامی یونٹس کے قیام کا معاملہ اب انتہائی سنجیدہ مرحلے میں داخل ہو چکا ، مصطفیٰ کمال کا کراچی میں خطاب
کمپنیوں نے ادویات کی قیمتیں بڑھا دیں، نوٹس دے دیا ہے، وزیر صحت کی دلچسپ منطق
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے انکشاف کیا ہے کہ دوائیاں بنانے والی 50 کمپنیوں نے ادویات کی قیمتوں میں 2000 فیصد تک کا ہوشربا اضافہ کیا ہے، جس کا خلاصہ تھرڈ پارٹی آڈٹ میں سامنے آیا ہے۔ کراچی کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری میں تقریب سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 2022 کے بعد کمپنیوں کو نان ایسینشل ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی اجازت دی گئی تھی، جس کا بہت سی کمپنیوں نے ناجائز فائدہ اٹھایا اور اب ان تمام کو شوکاز نوٹس جاری کر دیے گئے ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ موجودہ سرکاری نظام اب مزید نہیں چل سکتا اور نئے انتظامی یونٹس کے قیام کا معاملہ اب انتہائی سنجیدہ مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر جتنی تاخیر کی جائے گی، ملک کو اتنا ہی زیادہ نقصان اٹھانا پڑے گا اور اسی وجہ سے مخالفین کے لہجے بھی سخت ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی کو مالیاتی طور پر شدید نقصان پہنچایا جا رہا ہے، اور مردم شماری میں مبینہ گڑبڑ کے ذریعے شہر کی آبادی کو کم دکھایا گیا ہے۔ سندھ کو گزشتہ 17 برسوں میں این ایف سی ایوارڈ کے تحت 22 ہزار ارب روپے ملے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ وسائل کی کوئی کمی نہیں بلکہ مسئلہ وسائل کی منصفانہ تقسیم کا ہے۔
ادویات کے شعبے پر بات کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے اعتراف کیا کہ اگر دواؤں کی قیمتیں معقول حد تک نہ بڑھائی جائیں تو کمپنیاں اس شعبے میں سرمایہ کاری نہیں کریں گی اور اہم ادویات مارکیٹ سے غائب ہو جاتی ہیں۔ انہوں نے مثال دی کہ کینسر کی ایک دوا کی قیمت مناسب نہ بڑھنے کی وجہ سے وہ شیلف سے غائب ہو گئی تھی اور مریض اسے بلیک مارکیٹ سے مہینوں مہنگے داموں خریدنے پر مجبور ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے اس معاملے کے حل کے لیے وزیر خزانہ کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو قیمتوں کا جائزہ لے کر حتمی فیصلہ کرے گی۔ اس کے علاوہ جعلی ادویات کی روک تھام کے لیے نومبر میں ایک موبائل ایپ بھی متعارف کروائی جا رہی ہے جبکہ وزارت کے ڈیٹا بینک میں 86 ہزار ادویات کا ڈیٹا اکٹھا کر لیا گیا ہے۔