عدالتوں کے حتمی فیصلوں کو مسلسل چیلنج نہیں کیا جا سکتا، وفاقی آئینی عدالت
اہم فیصلہ، اپیل کی درخواست مسترد، لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رہے گا۔
وفاقی آئینی عدالت کا احاطہ اور عدالتی کارروائی کا منظر
وفاقی آئینی عدالت نے اپیلوں کے حوالے سے ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ عدالتوں کی جانب سے حتمی ہونے والے فیصلوں پر دوبارہ مقدمہ بازی کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور عدالتوں کے حتمی فیصلوں کو مسلسل چیلنج نہیں کیا جا سکتا، جب تک فراڈ، غلطی یا دائرہ اختیار کی کمی ثابت نہ ہو۔
دستاویز کے مطابق وفاقی آئینی عدالت کے جسٹس روزی خان بریچ اور جسٹس سید ارشد حسین شاہ پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے ضلع بھکر میں انواری بی بی نامی خاتون کی زمین پر لڑکیوں کے اسکول کی تعمیر کے تنازع پر جاری کیس کا فیصلہ سنایا۔ جسٹس ارشد حسین شاہ نے تفصیلی فیصلہ تحریر کیا جس میں واضح کیا گیا کہ ایک ہی تنازع کو بار بار عدالتوں میں اٹھانا قانون کی منشا کے خلاف ہے اور یہ عدالتی عمل کے ناجائز استعمال کے مترادف ہے۔
فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ عدالتوں کے فیصلوں کو حتمی حیثیت دینا نظام انصاف اور قانون کی بالادستی کے لیے ضروری ہے، لہٰذا ایک بار فیصلہ حتمی ہو جائے تو اسے دوبارہ نہیں کھولا جا سکتا۔ وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے اپیل کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔
عدالتی دستاویز کے مطابق زمین کی تقسیم اور دوبارہ الاٹمنٹ کا معاملہ پہلے ہی سپریم کورٹ تک جا چکا تھا اور کنسولیڈیشن حکام کی جانب سے زمین کی تقسیم کا فیصلہ حتمی ہو چکا تھا۔ انوری بی بی کے ورثا کا مؤقف تھا کہ لڑکیوں کا اسکول ان کی ملکیتی زمین پر تعمیر کیا گیا ہے، تاہم عدالت نے قرار دیا کہ عمل درآمد کرنے والی عدالت ڈگری کے دائرہ کار سے تجاوز کرکے پہلے سے طے شدہ حقوق میں تبدیلی نہیں کر سکتی۔