وفاقی اداروں کی مجرمانہ غفلت، سندھ میں ترقیاتی منصوبے شدید متاثر ہونے کا انکشاف

معاوضہ ادائیگی کے باوجود کھمبے نہیں ہٹائے گئے، شرجیل میمن کا شدید ردعمل، فوری کارروائی کا مطالبہ

October 31, 2026 · قومی
وفاقی اداروں کی مجرمانہ غفلت، سندھ میں ترقیاتی منصوبے شدید متاثر ہونے کا انکشاف

وفاقی اداروں کی مجرمانہ غفلت، سندھ میں ترقیاتی منصوبے شدید متاثر ہونے کا انکشاف

صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے وفاقی ماتحت اداروں کی کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ متعلقہ اداروں کی لاپرواہی کی وجہ سے عوامی ترقیاتی منصوبے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے دوٹوک مؤقف اختیار کیا کہ حیسکو اور سیپکو کو سڑکوں پر قائم بجلی کے کھمبے منتقل کرنے کے لیے باقاعدہ معاوضہ ادا کیا جا چکا ہے، اس کے باوجود زیر تعمیر سڑکوں سے کھمبے تاحال نہیں ہٹائے جا رہے۔

دستاویزات اور سرکاری بیانات کے مطابق سکھر میں سڑک سے کھمبے ہٹانے کے لیے 5 سال قبل ادائیگی کی گئی تھی لیکن آج تک اس پر عمل درآمد نہیں ہوا۔ شرجیل انعام میمن کا کہنا تھا کہ حیسکو، سیپکو، کے الیکٹرک، سوئی سدرن گیس اور دیگر متعلقہ یوٹیلیٹی اداروں کو اپنی ذمہ داریاں ہر صورت پوری کرنا ہوں گی۔ سندھ حکومت ترقیاتی منصوبوں پر خطیر رقم خرچ کر رہی ہے، تاہم یوٹیلیٹی تنصیبات کی منتقلی میں تاخیر منصوبوں کی تکمیل میں بڑی رکاوٹ بن رہی ہے۔ سڑکوں پر موجود بجلی کے کھمبے ٹریفک کی روانی متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ روزانہ حادثات کا سبب بھی بن رہے ہیں۔

ریڈ لائن منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس اہم منصوبے میں تاخیر کی بنیادی وجوہات میں یوٹیلیٹی تنصیبات اور کھمبوں کو متبادل مقامات پر منتقل کرنے میں تاخیر شامل ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ متعلقہ ادارے فوری طور پر سڑکوں پر قائم کھمبے اور دیگر تنصیبات ہٹائیں۔

دوسری جانب کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے شرجیل انعام میمن نے کہا کہ کراچی ملکی معیشت کا اہم مرکز ہے اور اس کی ترقی پورے پاکستان کی معاشی ترقی سے جڑی ہے۔ شہر میں پورٹ قاسم سے ایم نائن موٹروے تک لنک روڈ، ریڈ لائن اور یلو لائن بی آر ٹی سمیت اہم منصوبوں پر کام تیزی سے جاری ہے۔ انہوں نے خوشخبری سنائی کہ نومبر تک کراچی میں مزید ڈبل ڈیکر اور ای وی بسیں پہنچ جائیں گی جبکہ نئے روٹس کی منصوبہ بندی کا عمل بھی تیزی سے مکمل کیا جا رہا ہے۔