افغان سرزمین سے دہشت گردی پاک افغان تعلقات میں بڑی رکاوٹ ہے، وزارت اطلاعات

اہم پیش رفت، انگوراڈہ میں پاک فوج کی جوابی کارروائی، طالبان کی متعدد چوکیاں تباہ۔

October 31, 2026 · اہم خبریں
پاک افغان سرحد پر سیکیورٹی صورتحال اور پاک فوج کی جوابی کارروائی کے حوالے سے ایک منظر

پاک افغان سرحد پر سیکیورٹی صورتحال اور پاک فوج کی جوابی کارروائی کے حوالے سے ایک منظر

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وزارت اطلاعات نے اپنے ایک واضح بیان میں کہا ہے کہ افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف ہونے والی دہشت گردی دونوں ممالک کے تعلقات میں بنیادی رکاوٹ ہے، جبکہ پاکستان کا مؤقف بالکل واضح ہے کہ دہشت گردی ایک ریڈ لائن ہے اور شہریوں کی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

وزارت اطلاعات کے مطابق افغان طالبان حکومت اپنی سرزمین پر دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کے خاتمے کی ذمہ دار ہے، اور افغان طالبان حکومت کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات سے مسلسل گریز پاک افغان تعلقات میں کشیدگی کی ایک بڑی وجہ ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ دہشت گردی جیسے سنگین مسئلے پر الزام تراشی اور کھوکھلی یقین دہانیاں بحران کے حل میں مددگار ثابت نہیں ہو سکتیں، اس لیے افغان طالبان قیادت کو دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے اپنی ذمہ داری قبول کرنا ہوگی۔

حکومتی ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی قومی سلامتی کو لاحق خطرات کے خاتمے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق رکھتا ہے اور یہ اقدامات بین الاقوامی قانون کے مطابق کیے جائیں گے۔ پاکستانی شہریوں کا تحفظ ریاست کی اولین ترجیح ہے اور قومی سلامتی کے معاملے پر پاکستان کے عزم کو کسی قسم کی کمزوری نہ سمجھا جائے۔

دوسری جانب سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج نے انگوراڈہ میں سرحد پر افغان طالبان کی بلااشتعال فائرنگ کا بھرپور اور منہ توڑ جواب دیا ہے۔ جنوبی وزیرستان اور پاراچنار سے ملحقہ علاقوں میں پاک فوج نے بھاری ہتھیاروں سے کارروائی کرتے ہوئے افغان طالبان رجیم کی متعدد چوکیوں اور فوجی تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا اور انہیں پوسٹیں چھوڑ کر فرار ہونے پر مجبور کر دیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اس مؤثر کارروائی میں طالبان کے متعدد اہلکاروں کی ہلاکت کی بھی اطلاعات ہیں۔

دریں اثنا واشنگتن سے موصولہ اطلاعات کے مطابق امریکی سینیٹر مارکو روبیو نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کو افغانستان کی سرزمین سے اسپانسر ہونے والے دہشت گردانہ حملوں پر شدید تشویش لاحق ہے۔ دستیاب دستاویزات اور بیانات کے مطابق، اسلام آباد کا ماننا ہے کہ افغان طالبان نے ان حملوں کو روکا نہیں ہے اور اس ضمن میں خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے۔ مارکو روبیو نے واضح کیا کہ امریکہ ہرگز نہیں چاہتا کہ پاکستان کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا جائے، اور خطے میں امن و استحکام کے لیے اس نوعیت کے چیلنجز سے نمٹنا انتہائی ضروری ہے۔