انتخابی اصلاحات کمیٹی میں نمائندگی پر تنازع، ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی کے مطالبات سامنے آگئے

اہم سیاسی پیش رفت، ایم کیو ایم کو شوکاز نوٹس جاری، اتحادیوں کو نشستیں دینے پر غور جاری ہوگا

November 3, 2026 · اہم خبریں
انتخابی اصلاحات کمیٹی کی تشکیل اور الیکشن کمیشن کے نوٹس سے متعلق اہم اجلاس کا منظر

انتخابی اصلاحات کمیٹی کی تشکیل اور الیکشن کمیشن کے نوٹس سے متعلق اہم اجلاس کا منظر

انتخابی اصلاحات کی پارلیمانی کمیٹی میں اتحادی جماعتوں کی نمائندگی کا معاملہ ایک اہم سیاسی چیلنج بن گیا ہے، جہاں حکمران مسلم لیگ ن اس کمیٹی میں اتحادی جماعتوں کو جگہ دینے کے لیے اپنے حصے میں کمی کرنے پر غور کررہی ہے۔ ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) تناسب سے ملنے والے اپنے حصے میں کمی کرے گی جبکہ مسلم لیگ ق، آئی پی پی اور مسلم لیگ ضیاء کا 1 ایک رکن قومی اسمبلی کمیٹی میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ دوسری جانب ایم کیو ایم پاکستان نے کمیٹی میں صرف 1 رکن شامل کرنے کے حکومتی فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے 2 ارکان کی نمائندگی دینے کا مطالبہ کردیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایم کیو ایم رہنما سید امین الحق نے حکومتی چیف وہپ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری سے ٹیلی فون پر رابطہ کرکے فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ کیا۔ سید امین الحق کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی میں ایم کیو ایم کے 22 ارکان ہیں، اس لیے پارلیمانی کمیٹی میں پارٹی کو 2 نشستیں ملنی چاہئیں۔ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے ایم کیو ایم کے تحفظات اعلیٰ قیادت تک پہنچانے کی یقین دہانی کرائی ہے اور حکومت 2 سے 3 روز میں اس حوالے سے جواب دے گی۔ دریں اثنا، وفاقی وزیر پارلیمانی امور نے پی ٹی آئی کے چیف وہپ عامر ڈوگر سے بھی ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے اور اپوزیشن سے کمیٹی کے لیے نام جلد بھجوانے کی درخواست کی ہے تاکہ اسپیکر قومی اسمبلی کمیٹی کا نوٹیفکیشن جلد جاری کرسکیں۔ عامر ڈوگر نے کمیٹی فارمولے پر نظرثانی اور 2013 کے فارمولے کو مدنظر رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ادھر الیکشن کمیشن آف پاکستان نے انٹرا پارٹی انتخابات نہ کرانے پر ایم کیو ایم پاکستان کو باضابطہ طور پر شوکاز نوٹس جاری کر رکھا ہے۔ الیکشن کمیشن کے جاری کردہ متن کے مطابق، ایم کیو ایم پاکستان دی گئی توسیعی مدت 15 اکتوبر 2026 تک بھی انٹرا پارٹی انتخابات کرانے کے قانونی تقاضے پورے کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔ الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت انٹرا پارٹی انتخابات کرانا ایک لازمی قانونی تقاضا ہے، اور انتخابات کے بعد 7 روز کے اندر انتخابی سرٹیفکیٹ الیکشن کمیشن میں جمع کرانا بھی ضروری ہوتا ہے۔ الیکشن کمیشن نے ایم کیو ایم کو جواب دینے کے لیے 14 روز کی مہلت دی ہے، اور واضح کیا ہے کہ مقررہ مدت میں تسلی بخش جواب نہ ملنے کی صورت میں قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی جس کے تحت پارٹی آئندہ انتخابات کے لیے اپنا انتخابی نشان حاصل کرنے کی اہلیت سے محروم ہوسکتی ہے۔