کراچی کے کتنے لوگ گٹکا کھاتے ہیں؟

جرائم سے مقابلے میں مصروف کراچی پولیس کیلئے جمعہ 28 دسمبر 2018 کا دن بھی عام دنوں کی طرح تھا لیکن اس کی دن بھر کی کارکردگی کی رپورٹ پر ذرا غور سے نظر ڈالنے والے کو حیرت کا ایک دلچسپ جھٹکا ضرور لگتا۔

رات 12 بجے سے اگلی رات 12 بجے کے درمیان کراچی پولیس کو جن جرائم کا سامنا رہا ان میں 2 قتل کی وارداتیں تھیں۔ شہر بھر کی پولیس نے مجموعی طور پر 52 افراد گرفتار کیے۔ 15 غیرقانونی اسلحے پر پکڑے گئے اور باقی میں سے 12 نشہ آور اشیا رکھنے یا بیچنے پر۔ منشیات میں ساڑھے چار کلوگرام چرس تھی اور 18 شراب کو بوتلیں ۔ لیکن جس نشہ آور چیز کی مقدار سب سے زیادہ تھی وہ تھا گٹکا۔ تمباکو، چونے اور درجنوں دیگر الم غلم اشیا سے بننے والا نشہ جو منوں کی مقدر میں پکڑا گیا تھا۔ شہر میں جرائم کے روزنامچے پر گٹکا کا جرم ہر جگہ بکھرا تھا۔

پولیس کی رپورٹ دیکھ کر یوں محسوس ہوتا جیسے شہر گٹکے میں دب کر مرنے والا ہو۔

کمال نیاز، فہیم مقبول اور دیگر محقق خواتین و حضرات کی 2017 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق  کراچی میں 40 فیصد آبادی پان، گٹکے یا چھالیہ کی عادی ہے۔عورتوں میں اس کا تناسب زیادہ یعنی 50 فیصد ہے مردوں میں 25 فیصد۔ اسکول کے طلبہ کی 74 فیصد تعداد چبانے والی نشہ آور اشیا یعنی پان گٹکے کی شکار ہے۔

ایسے میں کراچی پولیس کو جس سب سے بڑے عفریت کا سامنا وہ چرس شراب یا آئس نہیں۔ پستول یا گولی بھی نہیں بلکہ گٹکا اور اس برداری کی دیگر اشیا ہیں۔

جمعہ 28 دسمبر 2018 کو کراچی پولیس نے کتنا گٹکا برآمد کیا۔ ذرا روزنامچوں کے اندراج مختصرا ملاحظہ کیجیئے۔

لیاری چاکیواڑہ پولیس کی میرا ناکہ پر کاروائی۔ گٹکے سے بھری گاڑی پکڑی گئی ڈرائیور محمد جان گرفتارمقدمہ درج۔ گاڑی پر بڑی تعداد میں مختلف اقسام کے گٹکے سے بھرے کارٹن اور پیکٹ منتقل کئے جارہے تھے۔

پی آئی بی کالونی میں گٹکا بیچنے والا فراز ولد امانت علی گرفتار۔ گٹکا ماوا، چھالیہ، رجنی وی ایم 88 گٹکا، پان پراگ برآمد۔

عیسی نگری میں پولیس نے 2 ملزمان پکڑ لیے۔ 30 من چھالیہ اور گٹکا برآمد

کورنگی انڈسٹریل ایریا پولیس محمد شفیق ولد حاجی ظفر کو گرفتار کیا ملزم سے 2 کلو گٹکا ماوا برآمد ہوا۔

کورنگی پولیس نے فرحان احمد کو گرفتار کیا گیا جس سے مختلف قسم کا گٹکا گٹکا ماوا برآمد ہوا

الفلاح پولیس نے شاہد ولد سعید اور عامی علی ولد ظہور علی کو گرفتار کیا گیا جن سے 15 کلو گولی مار ماوا اور مین پوری برآمد ہوئی۔

یہ کراچی میں ایک عام دن کا احوال ہے۔

ایسا نہیں ہے کہ گٹکے کی وبا ابھی حال ہی میں شروع ہوئی ہے۔  جاوید التمش کی ایک عشرے پہلے یعنی 2008 میں کی گئی تحقیق، جس کا حوالہ کمال نیاز و دیگر نے دیا ہے، سے پتہ چلتا ہے کہ دس برس پہلے بھی کراچی کے 46 فیصد لوگ گٹکے کے عادی تھے۔

حالیہ برسوں میں بالخصوص گٹکے پر پابندی کے بعد اس نشہ آور چیز کے استعمال میں بظاہر معمولی کمی آئی ہے لیکن صورت حال میں کوئی نمایاں بہتری نہیں دیکھی گئی۔

 

تبصرے بند ہیں.