اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری کو اسمبلی میں واپس جانے کاچیف جسٹس عمرعطا بندیا ل کا مشورہ اچھا نہیں لگا، استعفوں کی منظوری سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران دی گئی ان کی رائے کوآئین سے متصادم قرار دیدیا۔
فواد چوہدری نے کہا کہ الیکشن اخراجات سے بڑی قیمت سپریم کورٹ کے فیصلے کی چکا رہے ہیں جس کے ذریعے انتخابات کو روکا گیا ۔
یاد رہے کہ آج چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے پاکستان تحریک انصاف کو واپس اسمبلیوں میں جانے کا مشورہ دیتے ہوئے ریمارکس دیے کہ پارلیمان میں کردار ادا کرنا ہی اصل فریضہ ہے،پی ٹی آئی کو اندازہ ہے 123 نشستوں پر ضمنی انتخابات کے کیا اخراجات ہونگے؟ ۔
احترام کے ساتھ چیف جسٹس کی آبزرویشن آئین سے متصادم ہے پانچ سال اسمبلی کی مدت ہے تاآنکہ اس مدت سے پہلے توڑ دی جائے اور عوام اس اسمبلی کو نمائندہ نہیں سمجھتے الیکشن پر اخراجات سے کہیں زیادہ بڑی قیمت ہم سپریم کورٹ کے اس فیصلے کی دے رہے ہیں جس کے ذریعے انتخابات کو روکا گیا https://t.co/FvOseZuUaj
— Ch Fawad Hussain (@fawadchaudhry) September 22, 2022
چیف جسٹس کے ریمارکس پر رد عمل دیتے ہوئے فواد چوہدری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹرپرکہا کہ احترام کے ساتھ چیف جسٹس کی آبزرویشن آئین سے متصادم ہے ، پانچ سال اسمبلی کی مدت ہے تاآنکہ اس مدت سے پہلے توڑ دی جائے اور عوام اس اسمبلی کو نمائندہ نہیں سمجھتے ، الیکشن پراخراجات سے کہیں زیادہ بڑی قیمت ہم سپریم کورٹ کے اس فیصلے کی دے رہے ہیں جس کے ذریعے انتخابات کو روکا گیا۔