رانا ثنا اللہ نے کہا کہ عمران خان ایک طرف دھمکیاں دے رہے ہیں تو دوسری طرف پاؤں پڑ رہے ہیں۔ عمران خان لانگ نہیں بلکہ فتنہ مارچ کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان گھٹیا گفتگو کرتے ہیں اور اس کے علاوہ ان کے پاس کوئی کام نہیں۔ روزانہ صبح مارچ گالی گلوچ کے ساتھ شروع کرتے ہوں تمہیں شرم نہیں آتی لیکن عوام عمران خان کے پاگل پن کا شکار نہیں ہوں گے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ الیکشن میں جیتنے کی باتیں کرتے ہو اور جب عام انتخابات ہوں گے تو تمہیں پتا لگ جانا ہے۔ انتخابات جیتنے میں صوبائی حکومتوں کا بڑا کردار ہوتا ہے۔ غریبوں کے نام پر تم نے چندہ اکٹھا کر کے سیاست کی۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کو چاہیئے کہ یہ اپنے مذموم فسادی ایجنڈے کو چھوڑ دیں اور پاکستان کی دوسری سیاسی جماعتوں کے ساتھ بیٹھ کر بات کریں، پھر جو سیاسی حل نکلے اس کے مطابق آگے بڑھا جائے۔ پاکستان کو اس وقت اتفاق کی ضرورت ہے نہ کہ افراتفری اور انارکی کے ماحول کی۔ وزیر اعظم کی ہدایت ہے کہ اس فتنے کو روکنے کے لیے اسلحہ نہیں دینا۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ فرنٹ فورسز کو صرف آنسو گیس اور ربڑ کی گولیاں فراہم کی جائیں گی، خون اور جنازوں کا نام لے کر حکومت کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ عمران خان نے احساس پروگرام کے فنڈز انتخابات میں استعمال کیے تاہم احساس پروگرام میں تحقیقات ہو رہی ہیں تم نے پکڑے جانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ بندے اور بندوقیں اکٹھی کر رہے ہیں کیونکہ یہ وفاق پر حملہ آور ہونا چاہتے ہیں جبکہ فورسز کو بھی اپنی جان کی حفاظت کے لیے اسلحہ جاری ہونا چاہیے۔ یہ گمراہی مارچ ہے عملی طور پر یہ ناکام مارچ ہے۔