عارضی کیمپ قائم کرنے کا فیصلہ- تمام سہولیات فراہم کی جائیں گی، فائل فوٹو
 عارضی کیمپ قائم کرنے کا فیصلہ- تمام سہولیات فراہم کی جائیں گی، فائل فوٹو

31 مارچ کی ڈیڈ لائن، پشاور میں افغانیوں کے کاروبار بند

محمد قاسم :

پشاور میں افغان باشندوں کے درجنوں کاروبار بند ہو گئے ہیں۔ جن میں تعلیمی ادارے اور کلینکس بھی شامل ہیں۔ جبکہ 31 مارچ تک مزید درجنوں تعلیمی ادارے اور کلینکس کی بندش متوقع ہے۔

ذرائع کے مطابق افغان باشندوں کی وطن واپسی کی ڈیڈ لائن قریب آنے پر طلبہ کی واپسی کے پیش نظر پرائمری سے کالج تک کے تعلیمی ادارے بند کیے گئے ہیں۔ یہ تعلیمی ادارے رنگ روڈ، پھندو، ارمڑ، بورڈ بازار، افغان کالونی اور دوسرے علاقوں میں موجود تھے۔ جبکہ متعدد افغان ڈاکٹرز نے کلینکس بھی بند کر دیئے ہیں۔ جبکہ بعض نے تعلیمی اداروں کو فروخت کرنے کیلئے دلچسپی رکھنے والے سرمایہ داروں سے رابطے بھی شروع کر دیے ہیں۔ کیونکہ ان تعلیمی اداروں پر ان کے کروڑوں روپے خرچ ہوئے ہیں اور ان میں افغان طلبہ سمیت پاکستانی طلبہ بھی زیر تعلیم ہیں۔ ان کی بندش سے ان کا تعلیمی سلسلہ متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ اسی لئے افغان باشندوں نے پاکستانی سرمایہ دار وں سے رابطے کر کے ان کو تعلیمی ادارے لینے کی پیشکش کی ہے تاکہ طلبہ کا تعلیمی سلسلہ جاری رہ سکے۔ تاہم اس حوالے سے فی الحال رابطوں کی ہی اطلاعات ہیں۔ خرید و فروخت کے حوالے سے آئندہ دو تین دنوں میں پتہ چل جائے گا۔ کیونکہ افغان مہاجرین کی واپسی میں صرف 3 روز باقی رہ گئے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کاغذی کارروائی شروع ہوچکی ہے اور کسی حتمی پیشکش پر پہنچنے کے بعد اس بارے میں فیصلہ ہو جائے گا۔ کیونکہ ان تعلیمی اداروں میں متعدد اساتذہ جن میں خواتین ٹیچرز بھی شامل ہیں، کے بیروزگار ہونے کا خدشہ بھی ہے۔ اسی طرح نجی کلینک چلانے والے افغان ڈاکٹرز نے بھی واپسی کی تیاری شروع کر دی ہے۔ ذرائع کے بقول بعض افغان ڈاکٹروں نے دیگر پاکستانی ساتھیوں سے رابطے کیے ہیں کہ ان کے کلینکس چلانے کیلئے ان کے ساتھ معاملات طے کرلیں۔

واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے صوبے کے مختلف اضلاع میں بند ہونے والے تعلیمی اداروں کے بارے میں رپورٹ طلب کی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ہاسٹلز میں رہائش پذیر افغان طلبہ کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے کہ واپسی کی تاریخ سے قبل جانے کا بندوبست کرلیا جائے۔ جس پر افغان طلبہ نے بھی واپسی کی تیاری شروع کر دی ہے۔ دوسری جانب صوبائی حکومت نے سرکاری اور غیر سرکاری تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم افغان مہاجرین طلبہ کا ریکارڈ وفاق کو بجھوا دیا ہے۔ جس کے مطابق صوبے کے تمام پبلک سیکٹر کی جامعات میں 500 سے زائد افغان زیر تعلیم ہیں۔ جبکہ پشاور سمیت صوبے کے سرکاری اور غیر سرکاری تعلیمی اداروں میں مجموعی طور پر تین لاکھ سے زائد افغان طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور صوبے میں مجموعی طور پر تین لاکھ کے قریب افغان طلبہ مختلف سرکاری تعلیمی اداروں اور اپنے افغان سکولوں میں زیر تعلیم ہیں۔

ذرائع کے مطابق مختلف نجی تعلیمی اداروں کی نشاندہی بھی کی گئی ہے جس میں افغان طلبہ کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ واضح رہے کہ وفاقی وزارت داخلہ نے صوبے سے افغان طلبہ کا ریکارڈ طلب کیا تھا۔ وفاقی وزارت داخلہ کے فارن نیشنل سیکورٹی سیل نے صوبائی سیکریٹری داخلہ کو خط لکھ کر صوبے میں افغان طلبہ کا ریکارڈ طلب کیا۔ خط میں لکھا گیا تھا کہ فارن نیشنل سیکورٹی سیل غیر ملکیوں سے متعلق ڈیش بورڈ کو اپ ڈیٹ کر رہا ہے اور صوبے میں زیر تعلیم تمام افغان طلبہ کا ڈیٹا 27 مارچ تک ارسال کیا جائے۔ کیونکہ وزارت داخلہ نے تمام افغان سٹیزن کارڈ ہولڈرز کو 31مارچ تک پاکستان سے نکلنے کی ہدایت کی ہے۔

وزارت داخلہ نے اپنے ایک بیان میں غیر قانونی طور پر پاکستان میں مقیم غیر ملکیوں کو 31 مارچ تک ملک سے جانے کا حکم دیا ہے اور ملک نہ چھوڑنے والوں کے خلاف یکم اپریل سے بڑے پیمانے پر کارروائی کا امکا ن بھی ہے۔ جبکہ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ وہ افغان ڈاکٹرز جنہوں نے نجی کلینکس کھول رکھے تھے، بیشتر نے اپنے کلینکس کا سامان جس میں ایکسرے اور الٹراسائونڈ مشینیں بھی شامل ہیں کی فروخت کیلئے مارکیٹ میں بڑے تاجروں سے رابطے کیے ہیں۔

اس حوالے سے پشاور کے علاقہ ڈبگری گارڈن میں کاروبار کرنے والے ملک عدنان نے ’’امت‘‘ کو بتایا کہ سب سے زیادہ رابطے کراچی مارکیٹ میں کیے جارہے ہیں اور رابطہ کرنے والوں میں پشاور کے علاوہ صوبے کے دیگر اضلاع سے بھی افغان ڈاکٹروں نے رابطے کیے ہیں۔ جن کے پاس لاکھوں اور کروڑوں روپے کی مشینیں وغیرہ موجود ہیں۔ جن کی مناسب قیمت ان کو دیگر اضلاع میں ملنا مشکل ہے۔ اسی لئے پشاور کی کراچی مارکیٹ جو ان مشینوں کی خریدوفروخت کے حوالے سے انتہائی مشہور ہے، میں رابطے کیے گئے ہیں۔ جبکہ سامان کو قریبی دکانوں میں ہی فروخت کر دیاگیا ہے جس میں فرنیچر وغیرہ شامل ہے۔

واضح رہے کہ پشاور میں خاص کر بورڈ اور ابدرہ بازار میں متعدد افغان مہاجرین ڈاکٹرز موجود ہیں اور بیشتر نے اپنے کلینکس میں ہی ایکسرے اور الٹرا سائونڈ مشینیں لگا رکھی ہیں۔ جبکہ خون کے ٹیسٹ وغیرہ بھی اپنے کلینکس میں ہی کر رہے تھے۔ تاہم واپس جانے کی تاریخ قریب آنے پر انہوں نے تمام سامان فروخت کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔