سید حسن شاہ :
کراچی کی جیلوں میں بند 13 ہزار قیدیوں کے عیدالفطر کی خوشیوں سے محروم ہونے کا خدشہ ہے۔ عطیات کی قلت اور مہنگائی کی وجہ سے جیلوں میں کام کرنے والی این جی اوز اور مخیر حضرات کی جانب سے قیدیوں کے لئے نئے کپڑے ، جوتے ، چپل و دیگر اشیا کی فراہمی کا سلسلہ بھی انتہائی کم ہوگیا ہے۔ جبکہ سرکاری سطح پر جیلوں میں قیدیوں کو عید کے نئے کپڑے و دیگر اشیا فراہم نہیں کی جاتیں۔
قیدی اہلخانہ کی جانب سے فراہم کردہ نئے کپڑے اور جیل مینوئل کے مطابق ملنے والی غذا سے ہی عید منانے پر مجبور رہیں گے۔ یاد رہے کہ گزشتہ ادوار میں این جی اوز اور مخیر حضرات کی امداد اور جیل انتظامیہ کی جانب سے خصوصی تقریب کے انعقاد سے تمام قیدیوں کو عید کی خوشیاں نصیب ہوتی تھی۔
عیدالفطر کے موقع پر کراچی جیلوں میں بند قیدیوں کے لئے عید کے نئے کپڑے ، جوتے ، چپل و دیگر اشیا کا خاطر خواہ انتظام نہیں کیا جاسکا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ ہر سال رمضان المبارک میں مختلف این جی اوز اور مخیر حضرات کی جانب سے جیلوں کی انتظامیہ کو قیدیوں کے لئے عید کینئے کپڑے ، جوتے ، چپل و دیگر اشیا فراہم کی جاتی رہی ہیں، جنہیں انتظامیہ قیدیوں کو دیتی ہے تاکہ ان کی عید اچھی گزر سکے۔ تاہم اس سال عوامی عطیات میں کمی مہنگائی کی وجہ سے این جی اوز اور مخیر حضرات کو کار خیر کے کام میں مشکلات کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے اس سال این جی اوز اور مخیر حضرات کی جانب سے جیلوں میں کئے جانے والے کار خیر کے کاموں میں کمی دیکھنے میں ا?ئی ہے۔
اب تک این جی اوز اور مخیر حضرات کی جانب سے کراچی سینٹرل جیل میں صرف 300 سے 400 قیدیوں کے لئے نئے کپڑوں و دیگر اشیا فراہم کی جاسکی ہیں۔ جبکہ ملیر جیل میں 250 سے 300 قیدیوں کو یہ اشیا فراہم کی گئی ہیں۔ واضح رہے کہ اس وقت کراچی سینٹرل جیل میں 7 ہزار اور ملیر جیل میں لگ بھگ 6 ہزار قیدی موجود ہیں، جن میں بڑی تعداد ایسے قیدیوں کی ہے جن کو پوچھنے والا کوئی نہیں اور نہ ہی اہلخانہ سمیت کوئی بھی رشتیدار ملاقات کے لئے ا?تا ہے۔ ان قیدیوں کو اکثر مشکلات اور محرومیوں کا سامنا رہتا ہے۔ جبکہ وہ قیدی جن کو اہلخانہ کی جانب سے نئے کپڑے فراہم کئے جاتے ہیں، محض وہی عید پر نئے کپڑے پہن سکیں گے۔
کراچی کی جیلوں میں قیدیوں کے لئے عید کی نماز کی ادائیگی کے لئے انتظامیہ کی جانب سے اہتمام کیا جاتا ہے۔ جیلوں میں قائم مختلف وارڈز اور سرکل کی مساجد میں قیدی عید کی نماز اداکرتے ہیں۔ نماز جیل کی مساجد کے پیش امام پڑھاتے ہیں۔ نماز کی ادائیگی کے بعد قیدیوں کو ان کی بیرکوں میں بند کردیا جاتا ہے۔ قیدیوں کوعید کے پہلے روز ناشتے کے ساتھ دودھ اور سویاں فراہم کی جاتی ہیں۔ جبکہ دوپہر کے کھانے میں بریانی اور رات کے کھانے میں قورمہ روٹی کا اہتمام ہوتا ہے۔ عید کے پہلے روز قیدی بیرکوں میں ہی بند رہ کر پورا دن گزارتے ہیں اور اس روز ان کی اہلخانہ سے ملاقات بھی نہیں کرائی جاتی۔
عید کے دوسرے اور تیسرے روز قیدیوں کی ان کے پیاروں سے ملاقات کرائی جاتی ہے جو صبح سے شام 5 بجے تک جاری رہتی ہیں۔ گزشتہ ادوار میں عید پر قیدیوں کے لئے خصوصی پروگرام کا انعقاد بھی کیا جاتا تھا جس میں ٹیبلو اور میوزیکل پروگرام بھی منعقد کئے جاتے تھے۔ اس دوران قیدی عید کی خوشی منانے کے لیے رقص بھی کرتے تھے۔ تاہم اس مرتبہ عید پر قیدیوں کے لئے کسی قسم کے پروگرام کا انعقاد نہیں کیا جائے گا۔
اس حوالے سے سینٹرل جیل کراچی کے سینئر سپریٹنڈنٹ عبد الکریم عباسی نے "امت” کو بتایا کہ "سینٹرل جیل میں اس وقت 7 ہزار سے زائد قیدی موجود ہیں اور اتنی بڑی تعداد میں قیدیوں کے عید کے لئے نئے کپڑے و دیگر اشیا کا انتظام ممکن نہیں۔ مختلف این جی اوز اور مخیر حضرات کی جانب سے ہمیں رمضان میں کبھی 100 قیدیوں تو کبھی 50 قیدیوں کے لئے نئے کپڑے وغیرہ دیئے گئے، جو ہم نے ضرورت بند قیدیوں کو فراہم کردیئے ہیں۔ اس کے علاوہ بریانی دیگیں و افطار کا سامان بھی فراہم کیا جاتا رہا ہے۔”
انہوں نے بتایاکہ "عید کی نماز کا خصوصی طور پر اہتمام کیا جائے گا۔ ہر وارڈ کی جامع مسجد میں قیدیوں کی نماز عید کی ادائیگی کا اہتمام کیا جائے گا۔ ہر وارڈ میں 1500 سے 2000 قیدی موجود ہیں۔ جبکہ عید پر قیدیوں کو خصوصی غذا دی جائے گی جس میں میٹھا اور دیگر خصوصی کھانے پینے کی اشیا شامل ہوں گی۔ جبکہ عید پر قیدیوں کی خصوصی طور پر ان کے اہلخانہ سے ملاقات بھی کرائی جائے گی۔ قیدیوں کے اہلخانہ اپنے پیاروں سے ملتے ہیں ان کے لئے نئے جوتے ، چپل ، کپڑے اور کھانے پینے کی اشیا بھی لیکر آتے ہیں جسے ہم ان قیدیوں کو فراہم کردیتے ہیں۔”
اس حوالے سے ملیر جیل کے سپریٹنڈنٹ سید ارشد حسین شاہ نے بتایا کہ "عیدالفطرکے موقع پر قیدیوں کو خصوصی کھانا فراہم کیا جائے گا جس میں بریانی ، قورمہ ، سویاں و دیگر چیزیں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اہلخانہ کی جانب سے دیئے جانے والا سامان قیدیوں کو فراہم کردیا جائے گا۔ اہلخانہ کی جانب سے ان کے پیاروں کے لئے کھانے پینے کی اشیا اور نئے کپڑے بھی دیئے جاتے ہیں۔” انہوں نے بتایا کہ "الصمد فاؤنڈیشن کی جانب سے ملیر جیل میں 250 سے 300 قیدیوں کے لئے نئے کپڑے و دیگر اشیا دی گئی تھیں، جو ہم نے ضرورت مند قیدیوں کو فراہم کردی ہیں۔ مہنگائی کی وجہ سے این جی اوز اور مخیر حضرات کی جانب سے قیدیوں کے لئے اشیا فراہمی میں کمی آئی ہے۔
اس کے علاوہ نماز عید کے لئے ہر سرکل اور وارڈ میں انتظام کیا جائے گا جبکہ ہر وارڈ اور سرکل کے پیش امام نماز عید ادا کروائیں گے ، نماز عید کے بعد قیدیوں کو سرکل میں ایک دوسرے سے ملنے کی اجازت ہوگی۔ عید سے ایک روز قبل تک قیدیوں کی ان کے اہلخانہ سے ملاقات کا سلسلہ جاری رہے گا اور اہلخانہ اپنے پیاروں کے لئے جو بھی سامان لے کر ا?ئیں گے وہ ان قیدیوں کو فراہم کردیا جائے گا۔ قیدی اپنے طور پر جیل میں عید مناتے ہیں ایک دوسرے سے گلے ملتے ہیں اور مبارکباد دیتے ہیں جبکہ اہلخانہ سے بھی ملاقات کرکے خوش ہو جاتے ہیں۔