راولپنڈی: پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ اسپیکر نے کہا وہ استعفے منظور نہیں کریں گے لیکن ہمارا فیصلہ اٹل ہے، ہم استعفے واپس نہیں لیں گے کیونکہ یہ بانی پی ٹی آئی کی ہدایت ہے۔
ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ہم 91 ممبران کے ساتھ اسمبلی میں بیٹھے، آج ہمارے پاس 76 ممبران ہیں، پرسوں تک 25 ایم این ایز نے استعفے جمع کروائے تھے، آج تک سارے ایم این ایز کے استعفی ہو گئے، صرف ان ایم این ایز کے رہتے ہیں جو ملک سے باہر ہیں۔
انہوں نے کہا بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لئے 15سے 20 منٹ کا وقت دیا گیا،انکی صحت بالکل ٹھیک ہے وہ ہشاش بشاش ہیں۔ کے پی کے میں ایک بڑا جلسہ منعقد کرنے سے متعلق بھی بانی پی ٹی آئی سے بات ہوئی۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جس طرح نیشنل ایکشن پلان بنایا اسی طرح زلزلے اور سیلاب کے خلاف بھی نیشنل ایکشن پلان بنانا چاہیے، میں سمجھتا ہوں یہ وقت الزامات کا نہیں، لوگ بہت زیادہ متاثر ہو گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کوئی ایسی پالیسی ہونی چاہئے جس میں پنجاب یا کے پی نہ ہوں بلکہ پاکستان ہو، نقصان کسی صوبے کا ہو نقصان پاکستان اور ہمارے بھائیوں کا ہے، راوی، سیالکوٹ، وزیر آباد، سوات میں سیلاب کی تحقیقات ہونی چاہئے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بانی کا ہر فیصلہ قابل قبول ہے اورانہوں نے وجوہات بھی بتائی ہیں، سیاست میں کوئی دوست دشمن نہیں ہوتا، پالیسی چلتی ہے، وقت کے ساتھ سیاسی دشمن دوست اور دوست سیاسی حریف بھی بن جاتے ہیں۔
چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ محمود اچکزئی کے اپوزیشن لیڈر بننے کی جہاں تک بات ہے، فی الحال ہمارے پاس عدالت کا حکم امتناع ہے، فی الحال عمر ایوب ہی اپوزیشن لیڈر ہیں، بانی نے محمود اچکزئی کو نامزد ضرور کیا ہے کہ اگر عدالتی سٹے نہیں ملتے تو محمود اچکزئی اپوزیشن لیڈر ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے ایم این ایز عدالتی سزاؤں کے خلاف اپیلیں فائل کر چکے ہیں، چاہے ان پر اعتراض ہو، ایسی عدالتی مثالیں موجود ہیں کہ اگر سزا آپ کی غیر موجودگی میں ہوئی ہے تو آپ کے پاس اپیل کا حق موجود ہے۔
بیرسٹر گوہر نے کاہ کہ ہم کہتے ہیں عدالتی سزاؤں کے بعد ہمارے ایم این ایز کی نااہلی غلط بنیادوں پر کی گئی، میں سمجھتا ہوں بانی کے مقدمات عدالت والے نہیں سیاسی ہیں، ان کا حل بھی سیاسی نکلنا چاہئے۔
چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ہمارا مینڈیٹ چوری کیا گیا اس کے باوجود ہم نے مذاکرات کی بہت کوشش کی، ہم نے کمیٹی بنائی اور سیاسی لوگوں سے بات کرنے کے لیے اچکزئی کو اختیار دیا کہ جائیں سیاسی لوگوں سے بات کریں۔
انہوں نے کہا کہ بانی نے کہا ہے قوم، ملک، آزاد عدلیہ، جمہوریت کی خاطر میں بات کرنے کو تیار ہوں، ہمارا حکومت کے ساتھ بیٹھنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے لیکن سیاست میں کوئی بات حرف آخر نہیں ہوتی، آج ہم نے بائیکاٹ کرکے باہر عوامی اسمبلی لگائی، اس میں 13 ممبران نے تقریر کی۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos