فائل فوٹو
فائل فوٹو

صومالی لینڈ نے اسرائیل کو ہری جھنڈی دکھا دی

صومالی لینڈ نے اسرائیل کو ہری جھنڈی دکھا دی،اسرائیل کو فوجی اڈے دینے اور غزہ سے فلسطینیوں کو پناہ دینے سے انکار کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق صومالیہ سے علیحدگی اختیار کرنے والے صومالی لینڈ نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا کہ اس نے تسلیم کیے جانے کے بدلے اسرائیلی فوجی اڈے قائم کرنے اور غزہ سے بے گھر فلسطینیوں کو آباد کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

صومالی لینڈ کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں ان اسرائیلی دعوؤں کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل کے ساتھ صومالی لینڈ کے روابط صرف سفارتی نوعیت کے ہیں اور یہ بین الاقوامی قوانین کے مکمل احترام کے ساتھ قائم کیے گئے ہیں۔

یہ وضاحت صومالیہ کے صدر حسن شیخ محمود کے بیانات کے بعد سامنے آئی۔ انھوں نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ صومالی لینڈ نے اسرائیل کی جانب سے تسلیم کیے جانے کے بدلے تین شرائط قبول کیں۔

اُن کا دعویٰ تھا کہ ان تین شرائط میں فلسطینیوں کی آبادکاری، خلیجِ عدن کے ساحل پر اسرائیلی فوجی اڈے کا قیام اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیے ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت شامل ہے۔

صومالی لینڈ کے وزیرِ خارجہ نے کہا کہ فلسطینیوں کی آبادکاری یا فوجی اڈوں کے حوالے سے کوئی بات چیت نہیں ہوئی تاہم انھوں نے اس امکان کو مکمل طور پر رد بھی نہیں کیا۔

البتہ تیسری شرط، یعنی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت کو عوامی سطح پر تسلیم کیا جا چکا ہے۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو نے بھی امریکی میڈیا کو انٹرویو میں تصدیق کی تھی کہ صومالی لینڈ ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔