بھارت میں امریکی H-1B ویزوں کے حصول کے لیے جعلی ڈگریوں اور رشوت کے ذریعے منظم دھندے کا انکشاف ہوا ہے۔ بھارتی ریاست کیرالا، تامل ناڈو، کرناٹک، مہاراشٹر، گوا اور دہلی سمیت دیگر علاقوں میں یہ نیٹ ورک سرگرم ہے اور ہزاروں افراد کو جعلی اسناد فراہم کی جا رہی ہیں۔
کیرالا پولیس نے مختلف مقامات سے اس فراڈ میں ملوث متعدد افراد کو گرفتار کیا اور 22 یونیورسٹیوں کے جعلی سرٹیفکیٹس برآمد کیے۔ مرکزی ملزم دھنیش عرف ڈینی گھر پر جعلی ڈگریوں کی پرنٹنگ میں مصروف تھا۔ اس نیٹ ورک نے میڈیکل، نرسنگ اور انجینئرنگ کے شعبوں میں 100 سے زائد جعلی ڈگریاں فراہم کی ہیں۔
امریکی سینٹر فار امیگریشن اسٹڈیز (CIS) کی ڈائریکٹر جیسیکا وان کے مطابق بھارت میں H-1B ویزا فراڈ وسیع پیمانے پر جاری ہے۔ امریکی ویزا پروگرام کے لیے بھارت میں روزانہ 200 سے زائد ویزے جاری کیے جاتے ہیں جن میں سے 80 سے 90 فیصد مکمل طور پر جعلی ہیں۔ بیرونِ ملک جانے کے خواہشمند بھارتی شہری جعلی کوائف اور اسناد کے ساتھ ویزا حاصل کرتے ہیں اور اس کے لیے بھاری رشوت دیتے ہیں۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک جعلی ڈگری کی قیمت تقریباً 1,400 ڈالر ہے اور اب تک 36,025 جعلی ڈگریاں فروخت ہو چکی ہیں۔ امریکی سفارت کار مہوش صدیقی نے بھی بھارتی قونصل خانوں کو H-1B ویزا فراڈ کے سب سے بڑے مرکز کے طور پر نشاندہی کی ہے۔
ٹائمز آف انڈیا اور دیگر ذرائع کے مطابق یہ نیٹ ورک بھارت کی سیاسی سرپرستی اور سہولت کاری سے سرگرم ہے، اور جعلی بینک اسٹیٹمنٹس، شادی یا پیدائش کے سرٹیفکیٹس کے ساتھ ویزا فراڈ کو بڑھاوا دیا جا رہا ہے۔
انکشافات سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ بھارتی H-1B ویزا نظام میں دھوکہ دہی اور فراڈ کا عمل بڑے پیمانے پر جاری ہے اور عالمی سطح پر بھارت کا "نام نہاد شائننگ انڈیا” پروپیگنڈا بے نقاب ہو چکا ہے۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos