ایران میں احتجاج کے دوران اموات10۔صورت حال پر خامنائی کا بیان بھی آگیا

ایران میں مظاہروں کے دوران اموات 10 ہوگئیں۔سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنائی نے کہا ہے کہ فسادیوں کو مظاہرین سے الگ شناخت کیا جائے اورلازم ہے کہ انہیں ان کے صحیح انجام تک پہنچایاجائے، حکام کو مظاہرین سے بات کرنی چاہیے لیکن فسادپھیلانے والوں سے بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔سپریم لیڈرنے الزام لگایاکہ اسرائیل یا امریکہ جیسی غیر ملکی طاقتیں بغیر کسی ثبوت کے احتجاج کو آگے بڑھا رہی ہیں۔انہوں نے ملکی کرنسی ریال کی گراوٹ کاذمہ داربھی دشمن کو قراردیا۔ خامنائی کا کہناتھاکہ دشمن کی طرف سے بھڑکائے ہوئے یا کرائے کے شرپسندوں کا ایک گروپ تاجروں اور دکانداروں کے پیچھے ہے اورایران کے خلاف نعرے لگا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: ایرانی مظاہروں کی حمایت میں سوشل میڈیاپر اسرائیلی بیانات۔رجیم چینج کی سازش؟
86 سالہ خامنائی کایہ پہلا تبصرہ ہے جو خراب معیشت کے خلاف مظاہروں کے دوران اس وقت آیاہے جب تشدد میں کم از کم 10 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔غیر ملکی میڈیاکے مطابق یہ مظاہرے رکنے کے کوئی آثار نہیں۔جرمن نشریاتی ادارے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ایک ہفتے سے جاری یہ احتجاج 2022 کے بعد سے ایران میں ہونے والے سب سے بڑے مظاہرے بن چکے ہیں۔
طلباء اور کارکن سپریم لیڈرکا حوالہ دیتے ہوئے’’آمر کے لیے موت‘‘ کا نعرہ لگارہے ہیں۔تعلیمی اداروں میںسیکورٹی فورسز نے اپنی موجودگی کو بڑھا دیا ہے اورجتماعات کو روکنے کے لیے بہت سی کلاسوں کو آن لائن منتقل کر دیا گیا ہے۔

امریکہ میں قائم ‘ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹ نیوز ایجنسی‘ کے مطابق، مظاہرے ایران کے 31 میں سے 22 صوبوں کے 100 سے زائد مقامات تک پھیل چکے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔