وینزویلامیں امریکی فوج کے ہاتھوں صدرکی اغوا نماگرفتاری کے بعدسیاسی اور انتظامی خلا پیداہوگیاہے۔ سڑکوں پر پولیس اور کچھ فوجی اہلکاروں کے علاوہ، ملک مقامی حکام کے اگلے اقدام کا انتظار کر رہا ہے۔ملک میں بے یقینی کا دوردورہ ہے۔
حزب اختلاف نے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد دنیا بھر کی حکومتوںسے رابطے کیے ہیں۔ان میں خطے کے ممالک جیسے ارجنٹینا، ایکواڈور، پاناما اور پیراگوئے اور فرانس بھی شامل ہیں جن کے متعلق اپوزیشن کا کہنا ہے کہ سب نے وینزویلا میں عوام کی مرضی کی بحالی کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کیا ہے۔
ٹرمپ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ وہ نہیں مانتے کہ اپوزیشن لیڈر،نوبل انعام یافتہ ماریا کورینا ماچاڈو کو ملک پر حکومت کرنے کے لیے ضروری حمایت حاصل ہے۔ان کا کہناتھاکہ میرے خیال میں اس کے لیے لیڈر بننا بہت مشکل ہوگا۔ انہیں ملک کے اندر حمایت یا عزت حاصل نہیں ۔ وہ ایک بہت ہی خوشگوار خاتون ہیں، لیکن ان کے پاس لیڈر بننے کے لیے ضروری احترام نہیں۔
اپوزیشن لیڈر58 سالہ ماریا کونوبیل انعام وصول کرنے کے لیے گذشتہ ماہ ایک مہماتی اور پرخطر خفیہ سفر کے ذریعے سمندری راستے سے امریکہ لایا گیاتھا لیکن وہ بروقت اوسلو نہیں پہنچ پائیں۔ان کی بیٹی نے والدہ کا انعام وصول کیا۔ماریہ، ایک سال سے اپنے ملک میں روپوشی کی زندگی گذارتی رہیں کیوں کہ ان کی زندگی کو خطرات لاحق تھے۔
اوسلو،ناروے میں ان کی بیٹی نے والدہ کی طرف سے تقریرپڑھ کرسنائی تھی جس میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ماچاڈو نے کہا کہ یہ انعام ان کے ہم وطنوں اور وسیع تر دنیا دونوں کے لیے گہری اہمیت رکھتا ہے۔یہ دنیا کو یاد دلاتا ہے کہ جمہوریت امن کے لیے ضروری ہے،اینا کورینا سوسا ماچاڈو نے اپنی والدہ کے الفاظ پیش کرتے ہوئے کہا۔ ان کا مزید کہناتھاکہ کسی بھی چیز سے بڑھ کر، ہم وینزویلا کے باشندے دنیا کو اس طویل اور کٹھن سفر کے ذریعے حاصل کیا گیا سبق ہے کہ جمہوریت کے لیے اور آزادی کے لیے لڑنےپر تیار ہونا چاہیے۔وینزویلا کے لوگ وقت پر یہ سمجھنے میں ناکام رہے ہیں کہ ان کا ملک ایک آمریت کے طور پر بیان کرنے کی طرف بڑھ رہا ہے۔
آزادی ایک ایسا انتخاب ہے جس کی ہر روز تجدید ہونی چاہیے، اس کا دفاع کرنے کے لیے ہماری رضامندی اور ہماری ہمت سے ماپا جاتا ہے۔
وینٹی وینزویلا پارٹی کی رہنما کو اکتوبر میں انعام سے نوازنے کا اعلان کیا گیاتھا، نوبل کمیٹی نے وینزویلا کی اپوزیشن تحریک میں ان کے کردار اور جمہوریت کے لیے ماریا کی ثابت قدمی اور استقلال کوسراہاتھا۔
دوسری شخصیت بھی خاتون ہیں۔ وینزویلا کی نائب صدر ڈیلسی روڈریگز کے بارے میں کہا جارہاہے کہ وہ ممکنہ طور پر مادور کے بعد حکومتی باگ ڈور سنبھال سکتی ہیں۔مادورو نے اپنی سوشلسٹ حکومت کے بھرپور دفاع پر روڈریگز کو ’’ٹائیگرس‘‘ قرار دیا تھا۔56 سالہ ڈیلسی روڈریگز 18 مئی 1969ء کو کراکس میں پیدا ہوئیں۔ وہ بائیں بازو کے گوریلا رہنما خورخے انتونیو روڈریگز کی بیٹی ہیں، جنہوں نے 1970ء کی دہائی میں انقلابی لیگا سوشلسٹا پارٹی کی بنیاد رکھی۔
نائب صدر کے عہدے کے ساتھ ساتھ وزیر خزانہ اور وزیر تیل کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے باعث وہ وینزویلا کی معیشت کے انتظام میں ایک مرکزی کردار ادا کرتی رہی ہیں اور ملک کے کمزور ہو چکے نجی شعبے میں بھی ان کا خاص اثر و رسوخ ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی پر قابو پانے کے لیے انہوں نے نسبتاً روایتی معاشی پالیسیوں پر عمل کیا۔انہوں نے یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے اور گزشتہ دہائی میں تیزی سے سیاسی منظرپر ابھریں۔ 2013ء سے 2014ء کے درمیان وہ وزیر اطلاعات و ابلاغ رہیں۔ڈیزائنر ملبوسات کی شوقین سمجھی جانے والی روڈریگز 2014ء سے 2017ء تک وزیر خارجہ بھی رہیں۔2017ء میں وہ حکومت نواز آئینی اسمبلی کی سربراہ بنیں، جس کے ذریعے مادورو کے اختیارات میں اضافہ کیا گیا۔ جون 2018 میں انہیں نائب صدر مقرر کیا گیا، جس کا اعلان مادورو نے ایکس پر کرتے ہوئے انہیں ’’نوجوان، بہادر، تجربہ کار، شہید کی بیٹی، انقلابی اور ہزاروں معرکوں میں آزمودہ‘‘ قرار دیا۔اگست 2024 میں مادورو نے وزارت تیل بھی ڈیلسی روڈریگز کے حوالے کی، جہاں انہیں ملک کی سب سے اہم صنعت پر بڑھتی ہوئی امریکی پابندیوں سے نمٹنے کی ذمہ داری سونپی گئی۔
وینزویلا کا آئین روڈریگز کوملکی صدارت کی ذمہ داری سونپتاہے ۔ ٹرمپ نے بھی ان کے ساتھ کام کرنےکے امکانات سے انکار نہیں کیا، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ کون سا کردار ہے۔البتہ ڈیلسی روڈریگزنے دارالحکومت پر امریکی یلغارکے بعد کہاتھا کہ صدر نکولس مادورو ان کے ملک کے واحد صدر ہیں، ٹی وی پر خطاب میں ان کا کہناتھاکہ وینزویلا میں صرف ایک صدر ہے، اور اس کا نام نکولس مادورو موروس ہے۔
فلوریڈامیں ٹرمپ کی رہائش گاہ پر منعقد ہ پریس کانفرنس میںصدر سے نامہ نگاروں نے زوردے کر پوچھاکہ عبوری دور کے دوران وینزویلا میں حکومت کون چلائے گا اور انچارج کون ہوگا۔اس پر صدرکا کہناتھاکہ ملکی انتظام ہم چلائیں گے اور اگر وہاں جاناپڑاتو اس کے لیے بھی ہمیں کوئی جھجک نہیں ہوگی۔
نائب صدر ڈیلسی روڈریگز
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos