ایران میں احتجاج

ایران میں مظاہروں کے دوران کم ازکم 16ہلاکتیں۔انٹرنیٹ کی بندش

ایران میں بدامنی کے ایک ہفتے کے دوران کم از کم 16 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ ملک بھر میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف احتجاج پھیل گیا ہے جس کے نتیجے میں مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان پرتشدد جھڑپیں  جاری ہیں۔

انسانی حقوق تنظیموں اور سرکاری میڈیا نے بتایا کہ ان واقعات میں ہلاکتیں اور گرفتاریاں ہوئی ہیں۔کرد انسانی حقوق کی تنظیم’’ہنجاؤ‘‘نے بتایا کہ احتجاج کے آغاز سے اب تک کم از کم 17 افراد مارے جا چکے ہیں۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کی نیوز ایجنسی’’ہرانا‘‘ نے کہا کم از کم 16 افراد جاں بحق ہوگئے اور 582 کو گرفتار کیا گیا ہے۔
رپورٹس میں اشارہ کیا گیا ہے کہ احتجاج کے دوران شدید ترین جھڑپیں مغربی ایران کے علاقوں میں ہوئیں۔ دارالحکومت، ملک کے وسطی علاقوں اور جنوب میں صوبہ بلوچستان میں بھی مظاہرین اور پولیس کے درمیان احتجاج اور جھڑپیں دیکھی گئیں۔
ایرانی اخبار’’اعتماد‘‘نے بتایا ہے کہ ملک گیر احتجاج کے دوران انٹرنیٹ تک رسائی پر پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ امریکی انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنی’’کلاؤڈ فلیئر‘‘کے مطابق ڈیٹا ٹریفک میں 35 فیصد کمی آئی ہے۔سوشل میڈیا پر رپورٹس میں شدید خلل اور بین الاقوامی انٹرنیٹ سروس کے تقریباً مکمل طور پر منقطع ہونے کے خدشات کی بات کی گئی ہے۔

یہ مظاہرے گزشتہ تین سال میں سب سے بڑے ہیں اور اگرچہ یہ بدامنی کی ان کچھ سابقہ لہروں سے چھوٹے ہیں جنہوں نے ایران کو ہلا کر رکھ دیا تھا تاہم یہ ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب تہران گرتی ہوئی معیشت اور بڑھتے ہوئے بین الاقوامی دباؤ کے ساتھ ایک نازک صورتحال سے دوچار ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔