وینزویلا کا بھاری اور گاڑھا خام تیل ایک بار پھر عالمی توانائی سیاست کا مرکز بن گیا ہے، جس میں امریکی خلیجی ساحل پر قائم بڑی ریفائنریز خاص دلچسپی رکھتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ وہی ریفائنریز ہیں جو ماضی میں لاطینی امریکا سے درآمد ہونے والے بھاری اور زیادہ سلفر والے خام تیل کو پراسیس کرنے کے لیے تعمیر کی گئی تھیں۔
وینزویلا کا خام تیل انتہائی گھنا، چپچپا اور ٹار جیسا ہوتا ہے، جو عام ہلکے امریکی شیل آئل کے مقابلے میں ریفائن کرنا مشکل ضرور ہے، مگر امریکی خلیجی ساحل پر موجود جدید ریفائنریز اسی مقصد کے لیے بنائی گئی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا، دنیا کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہونے کے باوجود، اپنی ریفائنریز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھاری خام تیل درآمد کرتا ہے۔
توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ مناسب قیمت پر وینزویلا کے خام تیل تک رسائی امریکا کے لیے سستی توانائی کے حصول میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، جس سے صنعتی سرگرمیوں کو فروغ اور روزگار کے مواقع میں اضافہ ممکن ہے۔ اندازوں کے مطابق امریکی ریفائنریز وینزویلا سے یومیہ اضافی 10 لاکھ بیرل تک خام تیل درآمد کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، جس سے کینیڈا سمیت دیگر مہنگے ذرائع پر انحصار کم ہو سکتا ہے۔
ماضی میں، خاص طور پر 1990 کی دہائی کے آخر میں، امریکا وینزویلا سے روزانہ تقریباً 20 لاکھ بیرل خام تیل درآمد کرتا تھا، تاہم حالیہ برسوں میں پابندیوں، بدانتظامی اور سرمایہ کاری کی کمی کے باعث یہ درآمدات کم ہو کر صرف ایک لاکھ 35 ہزار بیرل یومیہ تک رہ گئی ہیں۔ اس دوران وینزویلا نے اپنا زیادہ تر خام تیل چین کو برآمد کیا، جو مالی امداد کے بدلے یہ تیل حاصل کرتا رہا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکا وینزویلا سے دوبارہ بڑے پیمانے پر تیل درآمد کرتا ہے تو اس سے چین کی رسد متاثر ہو سکتی ہے، اگرچہ چین متبادل ذرائع سے اپنی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس اقدام کو بعض تجزیہ کار عالمی سطح پر توانائی اور سیاست میں طاقت کے مظاہرے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
تاہم، وینزویلا کی تیل پیداوار کو دوبارہ یومیہ 30 لاکھ بیرل تک پہنچانا ایک طویل اور مشکل عمل قرار دیا جا رہا ہے۔ عالمی مشاورتی اداروں کے مطابق اس ہدف کے حصول کے لیے کم از کم 16 سال اور تقریباً 185 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہوگی، جبکہ ابتدائی مرحلے میں آئندہ دو سے تین سال کے دوران 30 سے 35 ارب ڈالر کی غیر ملکی سرمایہ کاری ناگزیر سمجھی جا رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سطح کی سرمایہ کاری صرف بین الاقوامی تیل کمپنیاں ہی کر سکتی ہیں، اور وہ بھی اسی صورت میں جب وینزویلا کے نظام، سیاسی استحکام اور سرمایہ کاری کے تحفظ پر مکمل اعتماد بحال ہو۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos