فوٹو سوشل میڈیا
فوٹو سوشل میڈیا

میں اغوا شدہ صدر اور جنگی قیدی ہوں،مادورو کا عدالت میں اپنے خلاف الزامات سے انکار

نیویارک: وینز ویلا کے معذول صدر مادورو نے نیو یارک کی عدالت کو بتاتا ہے کہ وہ وینزویلا کے رہنما ہیں۔

’میں بے قصور ہوں۔ میں قصوروار نہیں ہوں۔ میں ایک شریف آدمی ہوں، اپنے ملک کا صدر۔‘انھوں نے عدالت میں ایک مترجم کے ذریعے بات کی۔

وینیز ویلا کے معذول صدر کی اہلیہ سیلیا فلورز نے بھی اپنے خلاف منشیات کی اسمگلنگ اور ہتھیاروں کے الزامات سے انکار کیا ہے۔

متعدد امریکی میڈیا اداروں نے رپورٹ کیا ہے کہ مادورو کے وکیل کا کہنا ہے کہ ان کا مؤکل ضمانت پر رہا ہونے کی کوشش نہیں کر رہا، لیکن وہ بعد میں رہائی کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔

امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، کیس کی اگلی سماعت 17 مارچ کو مقرر کی گئی ہے۔ جس میں جج نے مادورو کو دوبارہ پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

وینز ویلا کے معذول صدر مادورو اور ان کی بیوی کی پیشی آج ڈرامائی لمحات کے ساتھ شروع اور ختم ہوئی۔

مادورو کی ٹانگوں کی زنجیروں کی آواز عدالت میں داخل ہونے سے پہلے سنائی دی، جہاں انھوں نے مڑ کر سر ہلایا اور سامعین میں موجود کئی لوگوں کو ’بونوس دیاس‘ کہا۔

سب سے زیادہ کشیدہ لمحہ عدالت کے اختتام پر آیا، جب عوام میں سے ایک شخص نے مادورو پر ہسپانوی زبان میں چیخنا شروع کیا کہ وہ اپنے کیے کی سزا ’بھگتیں گے۔‘

مادورو نے ان کی طرف رخ کیا اور ہسپانوی میں جواب دیا کہ وہ ’اغوا شدہ صدر‘ اور ’جنگی قیدی‘ ہیں۔

اس کے بعد انھیں ان کی بیوی کے پیچھے زنجیروں میں جکڑ کر عدالت کے پچھلے راستے دروازے سے باہر لے جایا گیا۔

یہ واحد لمحہ نہیں تھا جب 40 منٹ کی سماعت کے دوران مادورو نے، جو ایک نیلا اور ایک روشن نارنجی شرٹ پہنے ہوئے تھے، اپنی بے گناہی کا اظہار کیا۔

جج نے ان سے درخواست کی کہ سماعت کے آغاز میں تصدیق کریں کہ وہ واقعی نکولس مادورو ہیں۔

عام طور پر، ملزم مختصر جواب دیتا ہے کہ وہ کون ہے، لیکن مادورو نے موقع پا کر بھرے ہوئے عدالت کو بتایا کہ وہ وینزویلا کا صدر ہیں جنھیں اغوا کیا گیا ہے۔

انھوں نے پرسکون ہسپانوی لہجے میں کہا ’مجھے میرے گھر کاراکس، وینزویلا میں پکڑا گیا۔‘جج نے مداخلت کی اور کہا کہ اس کے لیے بہتر ’وقت اور جگہ‘ ہوگی کہ وہ یہ بات شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔