فرانس کی خاتون اول کو ٹرانس جینڈر قرار دینے والوں کو 8 ماہ قید

فرانس کی خاتونِ اول بریجیٹ میکرون کے خلاف سوشل میڈیا پر جھوٹی معلومات پھیلانے اور انہیں ٹرانس جینڈر قرار دینے والے 10 افراد کو عدالت نے سائبر ہراسمنٹ کا مجرم قرار دیتے ہوئے سزا سنا دی ہے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق فرانسیسی فوجداری عدالت نے آن لائن بدنامی اور غلط معلومات کی تشہیر کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے 8 مردوں اور 2 خواتین کو آٹھ، آٹھ ماہ قید کی سزا دی ہے۔ملزمان نے انٹرنیٹ پر دعویٰ کیا تھا کہ بریجیٹ میکرون پیدائشی طور پر مرد تھیں اور ان کا نام جین مائیکل ٹروگنیس تھا۔

عدالت نے قید کے ساتھ ساتھ اضافی جرمانے، سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی معطلی اور لازمی آگاہی و تربیتی کورسز مکمل کرنے کے احکامات بھی جاری کیے ہیں۔

عدالتی فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے فرانس کی خاتون اول نے کہا کہ وہ اس فیصلے کے ذریعے آن لائن بُلنگ کے خلاف جدوجہد، بالخصوص نوجوانوں میں، ایک مثبت مثال قائم کرنا چاہتی ہیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل جولائی میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اور بریجیٹ میکرون نے دائیں بازو کی امریکی پوڈکاسٹر کینڈیس اوونس کے خلاف بھی ہتکِ عزت کا مقدمہ دائر کیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔