دو ہزار طلبہ کی جان بچانے والے ہیرو اعتزاز حسن کا 12واں یومِ شہادت

قوم کے لیے قربانی اور بہادری کی درخشاں مثال بننے والے شہید اعتزاز حسن کا آج 12واں یومِ شہادت منایا جا رہا ہے۔ اعتزاز حسن نے کم عمری میں ایسی جرات و بہادری کا مظاہرہ کیا جو رہتی دنیا تک یاد رکھی جائے گی۔

6 جنوری 2014 کو ہنگو کے گورنمنٹ ہائی اسکول ابراہیم زئی میں ایک خودکش بمبار کو روک کر اعتزاز حسن نے اپنی جان قربان کی اور اسکول میں زیر تعلیم تقریباً دو ہزار طلبہ کی زندگیاں بچا لیں۔ محض 15 سال کی عمر میں وطن کے لیے جان نچھاور کرنے والے اعتزاز حسن نے دشمن کے ناپاک عزائم خاک میں ملا دیے۔

ان کی اس بے مثال قربانی پر حکومتِ پاکستان کی جانب سے انہیں تمغۂ شجاعت سے نوازا گیا، جبکہ ان کا نام قومی ہیروز کی فہرست میں سنہری حروف سے لکھا گیا۔

دوسری جانب، شہید اعتزاز حسن کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ مسلسل سیکیورٹی خدشات اور دھمکیوں کے باعث انہیں معاشی مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ حکومتی وعدے تاحال عملی شکل اختیار نہیں کر سکے۔ خاندان کے مطابق برسی کے موقع پر تو انہیں یاد کیا جاتا ہے، مگر سال بھر کوئی پرسانِ حال نہیں ہوتا۔

شہید اعتزاز حسن کے اساتذہ اور ساتھی آج بھی انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی جرات، قربانی اور حب الوطنی پر فخر کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔