عمران خان کو ریاست سے ٹکراؤ کی پالیسی چھوڑنی ہوگی،رانا ثناء اللہ

اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور ان کی اہلیہ کو عدالتی فیصلوں کی مکمل پاسداری کرنی ہوگی، اور اگر بانی پی ٹی آئی نے ریاست سے ٹکراؤ کی پالیسی جاری رکھی تو اس کا نقصان انہیں ہوگا۔

رانا ثناء اللہ نے بتایا کہ ہائی کورٹ نے بانی سے ملاقات کا طریقہ کار طے کیا ہوا ہے اور حالیہ ملاقات میں بانی اور ان کی اہلیہ ایک ساتھ موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی نیت پر کسی قسم کا شک نہیں ہونا چاہئے۔

مشیر نے مزید کہا کہ وزیراعظم نے پی ٹی آئی کے لیے متعدد مواقع پر مذاکرات کی پیشکش کی ہے، بشمول فلور آف دی ہاؤس مذاکرات، قومی اسمبلی اجلاس اور کابینہ اجلاس، مگر پی ٹی آئی کی جانب سے کہا جاتا ہے کہ ان کے پاس اختیار ہی نہیں۔

رانا ثناء اللہ نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی نے بطور وزیراعظم بھی 4 سال میں مذاکرات یا ٹیبل پر بیٹھنے کی بات نہیں کی اور حالیہ مذاکرات کی پیشکش پر بھی بانی کا رویہ غیر تعمیری رہا۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے رویے کی وجہ سے کئی مواقع ضائع ہوئے، اور ان کا یہ رویہ گزشتہ 15 سال سے جاری ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اگر بانی پی ٹی آئی مذاکرات اور ملاقات سے گریز کرتے ہیں اور ریاست سے ٹکراؤ کا راستہ اختیار کرتے ہیں، تو حکومت اس کی حمایت نہیں کرے گی اور یہ ان کے لیے نقصان دہ ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔