10مئی کو نئی دہلی نے امریکی حکام سے رابطوں کے لیے لابنگ کی۔دستاویزی شواہدمیں تصدیق

بھارتی میڈیانے کہا ہے کہ 10مئی کو نئی دہلی نے لابنگ فرم کی وساطت سے واشنگٹن میں 3 سینئرحکام کے ساتھ رابطے کیے تھے۔ان میں وائٹ ہاؤس کی چیف آف اسٹاف سوزی وائلز، امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر اور نیشنل سیکیورٹی کونسل میں رکی گِل شامل تھے۔
لابنگ فرم ایس ایچ ڈبلیو ایل ایل سی کو بھارتی سفارت خانے کی طرف سے 24 اپریل 2025 کوہائرکیا گیاتھا۔اس فرم نے غیر ملکی ایجنٹ رجسٹریشن ایکٹ (FARA) کے تحت امریکی محکمہ انصاف (DoJ) کوبھارتی رابطوں کی تفصیلات جمع کرائی ہیں۔

6 فائلنگز کے مطابق سال بھر میں اس کا کوئی اور کلائنٹ نہیں تھا ، اور اسے1 اعشاریہ 8 ملین ڈالرسالانہ معاہدے کے طور پر دو سہ ماہی قسطوں میں 9 لاکھ ڈالر (8 اعشاریہ 11کروڑبھارتی روپے) ادا کیے گئے ہیں۔

کانگریس نے کہاہے کہ 10 مئی 2025 کو واضح طور پر بہت کچھ ہوا، جس کے نتیجے میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے پہلا اعلان کیا کہ آپریشن سندور روک دیا گیا ہے۔
بھارتی اخبار’’دی ہندو ‘‘ کے مطابق کم از کم دو سرکاری عہدیداروں نے بتایا کہ اس طرح کی ملاقاتیں معمول کے مطابق براہ راست طلب کی جاتی ہیں۔ ایک سابق سفارت کار نے کہا، جو پہلے ہندوستانی سفارت خانے میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔ایک اور اہلکار نے کہا کہ لابیسٹ کو مشورے ،صورت حال کو سمجھنے، اور کچھ دروازے کھولنے کے لیے رکھا جاتا ہے،لیکن یہ ملاقاتیں اور کالیں براہ راست سفارت کاروں کے درمیان ہوتی ہیں۔
ہندوستانی سفارت خانہ فائلنگ سے انکار نہیں کرتا، اس کا کہناہے کہ لابیسٹ کی خدمات حاصل کرنامعیاری عمل ہے، لیکن ترجمان اس بات کا جواب نہیں دیتا کہ لابی فرم کو براہ راست میٹنگ کرنے یا آپریشن سندور پر بات کرنے کے لیے 10 مئی کو کال کرنے کے لیے کیوں کہا گیا۔
دی ہندوکے مطابق فرم کی فائلنگ میں موجود تفصیلات پر سفارتی حلقوں کو تعجب ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔