ایران میں مظاہروں کے دوران اموات 36 ہوگئیں،بین الاقوامی میڈیا۔بچے شامل

انسانی حقوق کے ایک گروپ نے کہا ہے کہ ایران بھر میں گزشتہ 10 دنوں کے مظاہروں کے دوران کم از کم 36 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔غیر ملکی انسانی حقوق کے کارکنوں کی نیوز ایجنسی (HRANA) نے اطلاع دی ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں 34 مظاہرین اور 2 کا تعلق سیکورٹی فورسز سے تھا۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ایرانی حکام نے سرکاری طور پر مرنے والوں کی تعداد نہیں بتائی لیکن کہا ہے کہ تین سکیورٹی اہلکار مارے گئے ہیں۔غیر ملکی نشریاتی ادارے انڈی پینڈنٹ نے کہا ہے کہ مرنے والوں میں 29 مظاہرین، 4بچے اور2سکیورٹی فورسز کے اہلکار ہیں۔

ایران ان سائٹ نے بتایاہے کہ 4 مارے گئے شہریوں کی عمریں 18 سال سے کم ہیں۔

ہرانانے یہ بھی کہا کہ بدامنی کے دوران 60 سے زائد مظاہرین زخمی اور2 ہزار76کو گرفتار کیا گیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق احتجاج 31 میں سے 27 صوبوں میں پھیل چکا ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق ایک پولیس اہلکار کو مغربی صوبے الیام کے ملکشاہی میں گولی مار کر ہلاک کر دیاگیا، جہاں حالیہ دنوں میں بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے ہیں اور سیکورٹی فورسز کی جانب سے کریک ڈاؤن کیا جارہا ہے۔

گذشتہ روز،مظاہروں کے دسویں دن سب سے اہم پیش رفت مشہد کے تجارتی مراکز اور تہران کے گرینڈ بازار میں وسیع ہڑتال اور مظاہرے تھے۔سونے، کرنسی، فیبرکس، جوتے اور گھریلو سامان کی مارکیٹوں کے بڑے حصے مکمل یا جزوی طور پر بند ہونے کی اطلاع ہے۔ سیکورٹی فورسز نے بڑے تجارتی مراکز کے ارد گرد اپنی موجودگی بڑھا دی اور کچھ اجتماعات کو روکا، لیکن ہڑتال نے روزمرہ کی اقتصادی سرگرمیوں کو متاثر کیا اور پیدل آمدوروفت کو کم کر دیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔