فائل فوٹو
فائل فوٹو

بھارتی پنجاب پولیس کا 15 سالہ ’جاسوس‘ گرفتار کرنے کا دعویٰ

نئی دہلی:انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے سانبہ ضلع سے تعلق رکھنے والے ایک 15 سالہ نوجوان کو پنجاب پولیس نے ضلع پٹھان کوٹ سے گرفتار کر لیا ہے۔

گرفتاری کے بعد پٹھان کوٹ کے اعلیٰ پولیس افسر دلجِندر سنگھ ڈھلون نے بتایا کہ اس نوجوان کے موبائل فون کی باریکی سے جانچ کی گئی اور اس میں پایا گیا کہ ’یہ لڑکا پاکستان میں مقیم فوج، آئی ایس آئی اور دہشت گردوں کے سہولت کاروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھا اور ایک سال سے حساس فوجی تنصیبات کی تصویریں بھیج رہا تھا۔‘

پولیس افسر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ نوجوان کا فون پاکستان سے ہی ’کلون‘ کیا گیا تھا اور اہم تنصیبات اور فوج کی نقل و حرکت کے بارے میں وہاں لایئو فیڈ جا رہی تھی۔

پولیس نے ابتدائی تفتیش کا حوالہ دے کر دعویٰ کیا ہے کہ یہ نوجوان، جس کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی، پاکستان میں مقیم ایک ’نارکو گینگسٹر‘ کے ساتھ بھی رابطے میں تھا۔

پولیس نے نوجوان کے خلاف ’آفیشل سیکریٹس ایکٹ‘ کے تحت باقاعدہ مقدمہ درج کر کے یہ کہا ہے کہ عدالت میں پیش کرنے سے پہلے لڑکے سے مزید پوچھ گچھ کی ضرورت ہے۔

اس دوران پنجاب پولیس نے انبالہ سے ایک پنجابی شہری کو گرفتار کر کے دعویٰ کیا کہ وہ انڈین ایئر فورس سٹیشن سے خفیہ معلومات جمع کر کے پاکستان بھیج رہا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ یہ شہری سوشل میڈیا کے ذریعہ ایک پاکستانی خاتون کے ساتھ سات ماہ سے مسلسل رابطے میں تھا۔

قابل ذکر بات ہے کہ گزشتہ برس مئی میں پاکستان کے خلاف انڈیا کے آپریشن سندوُر کے بعد صرف دو ہفتوں کے اندر دو خواتین سمیت 12 انڈین شہریوں کو گرفتار کر کے پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ پاکستان کے جاسوس تھے۔

ان میں ہریانہ کی یوٹیوبر جیوتی ملہوترا اور پنجاب کی 31 سالہ غزالہ بھی تھیں۔ اس سے قبل دلی میں پاکستانی سفارتحانے کے ایک اہلکار کو بھی جاسوسی کے الزام میں ملک بدر کیا گیا۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ سات ماہ کے دوران کل 17 افراد کو پاکستان کے لیے جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ ان میں سے بیشتر کی عمر 20 اور 35 سال کے درمیان ہیں تاہم منگل کو گرفتار کیا گیا جموں کا شہری سب سے کم عمر ہے۔

پنجاب کے پولیس افسر نے دعویٰ کیا کہ پاکستان میں مقیم انڈیا مخالف عناصر کے ان نیٹ ورکس کا پتہ لگا کر ایسے نوجوانوں کی کونسلنگ کی جائے گی جن کے بارے میں خدشہ ہے کہ وہ ’پاکستان کے جھانسے میں پھنس سکتے ہیں۔‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔