سکرین گریب

ایران میں مظاہروں کے دوران اموات 38۔مبینہ اسرائیلی جاسوس کوپھانسی

ایران میں احتجاجی مظاہروں کے دوران اموات 38 ہوگئیں۔ ان میں 29 مظاہرین، 4 قانون نافذکرنے والے اہل کار اور5 کم عمر نوجوان شامل ہیں جو18 سال سے چھوٹے ہیں۔ایرانی حکومت نے اسرائیلی خفیہ ایجنسی کے لیے جاسوسی کے الزام پر ایک شخص کو پھانسی دی ہے۔سرکاری نیوز ایجنسی نے اس شخص کی شناخت علی اردستانی کے نام سے کی، اور کہا کہ اس نے کرپٹو کرنسی میں مالی انعامات کے عوض حساس معلومات موساد کے افسران کو فراہم کیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس شخص نے جاسوسی کا اعتراف کیا ہے اور اسے ایک ملین ڈالر کے انعام کے ساتھ ساتھ برطانوی ویزا ملنے کی امید تھی۔ ایرانی میڈیانے اردستانی کو اسرائیل کی خصوصی آپریٹو فورس قرار دیا اور کہا کہ اس نے موساد کے ایجنٹوں کو خصوصی مقامات کی تصاویر اور فوٹیج فراہم کیں۔

ایرانی میڈیاکے مطابق اسرائیل نے اردستانی کو آن لائن بھرتی کیاتھا، اس کا مقدمہ ماتحت عدالتوں اور ملک کی سپریم کورٹ دونوں میں قانونی طریقہ کار سے گزرا۔

25 میں 27 سالہ اغیل کشاورز نامی شخص کوبھی سزائے موت دی گئی تھی۔جون 2025 سے اب تک ایران میں ایسے 11 شہریوں کو پھانسی دی جاچکی ہے۔

ادھر احتجاج کے11ویں دن کے اختتام پر ، سیکیورٹی فورسز کے پیچھے ہٹنے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ کرد صوبے کے دو شہر، عبدانان اور ملکشاہی ،سیکورٹی فورسزکی پسپائی کے بعد مظاہرین کے لیے خالی ہو گئے۔
سب سے اہم پیشرفت توانائی کے شعبے تک ہڑتال کی توسیع تھی۔ ساؤتھ پارس ریفائنری کارکنوں نے، جو ایران کی قدرتی گیس کی پیداوار کا اعصابی مرکز اور ریاستی آمدنی کا ایک بنیادی ذریعہ ہے، اوزارچھوڑدیئے اور اور احتجاجی تحریک میں شامل ہو گئے۔سونے،زیورات اور جوتاسازی کے تجارتی مراکزپہلے ہی بندہیں۔
ایران کے مظاہروں میں، ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹ نیوزایجنسی ، ہرانا کے مطابق مزید10 جامعات احتجاجی تحریک میں شامل ہوگئی ہیں۔11دن میں 45 یونیورسٹیوں سمیت کل 348 مقامات پر مظاہرے ہوئے ہیں۔31 میں سے 24 ایرانی صوبوں کے 37 مقامات ، ہراناکے مطابق، اس وقت احتجاج کی لپیٹ میں ہیں۔

امریکی میڈیاسی این بی سی کے مطابق یہ مظاہرے بڑ ی حدتک قیادت کے بغیرہیں،صدر مسعودپزشکیان کی مفاہمانہ کوششوں کے باوجود سیکورٹی فورسزکے ہاتھوں اموا ت اور گرفتاریوں نے مظاہرین کو احتجاج ختم کرنے پر آمادہ ہونے سے روکاہے۔مظاہروں کے دوران امام خمینی ہاسپٹل ایلام کے اندر قانون نافذکرنے والے اداروں کی وڈیو وائرل ہوئی ہے۔کردش واچ ڈاگ نے بتایاہے کہ اس میں 5 اموات ہوئی تھیں۔ایکس پر امریکی محکمہ خارجہ کے فارسی زبان میں اکاؤنٹ نے بھی ایک ویڈیو پوسٹ کی جس میں سیکیورٹی فورسز کے ایلام اسپتال کے احاطے میں داخل ہوتے ہوئے متن کے نیچے لکھا گیا تھا، ’’اسپتال میدان جنگ نہیں ،ایسے حملے جرم ہیں‘‘۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔