بھارت میں جعلی ڈگری اسکینڈل پر عالمی تشویش میں اضافہ

بھارت میں جعلی ڈگریوں اور تعلیمی اسناد کے مبینہ اسکینڈلز نے بین الاقوامی سطح پر تشویش بڑھا دی ہے۔ آسٹریلوی جریدے "دی آسٹریلیا ٹوڈے” کی رپورٹ کے مطابق بھارت سے تعلق رکھنے والے جعلی سرٹیفکیٹس اور ڈگریوں کے استعمال پر آسٹریلیا سمیت دیگر ممالک نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

آسٹریلوی سینیٹر میلکم رابرٹس نے اس معاملے کو ویزا اور امیگریشن نظام کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا۔ ان کے مطابق بھارتی پولیس نے مختلف کارروائیوں کے دوران 22 جامعات سے ایک لاکھ سے زائد جعلی اسناد برآمد کی ہیں، جو بیرونِ ملک ملازمتوں اور ویزا درخواستوں میں استعمال کی گئی تھیں۔

رپورٹس کے مطابق بھارت میں جعلی تعلیمی اسناد 1,350 سے 7,300 آسٹریلوی ڈالر تک فروخت کی جاتی رہی ہیں۔ آسٹریلوی حکام کا کہنا ہے کہ 23 ہزار سے زائد غیر ملکی طلبہ جعلی ڈگریوں کے ساتھ پکڑے جا چکے ہیں، جس کے بعد ویزا نظام کی جانچ اور سخت کر دی گئی ہے۔

دوسری جانب بھارتی جریدے "دی کمیون” نے اطلاع دی کہ مختلف بھارتی ریاستوں میں جعلی اسناد کا کاروبار کرنے والے 11 افراد کو گرفتار کیا گیا، جو کروڑوں روپے کا فراڈ کر رہے تھے۔

امریکی ادارہ برائے امیگریشن اسٹڈیز کے مطابق امریکی قونصل خانے نے چنئی کو H-1B ویزا فراڈ کا ایک بڑا مرکز قرار دیا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ بھارت میں جعلی ڈگریوں، بینک اسٹیٹمنٹس اور دیگر دستاویزات کی فروخت ایک منظم نیٹ ورک کے تحت کی جا رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ تعلیمی فراڈ نہ صرف بیرونِ ممالک کی سلامتی بلکہ عالمی تعلیمی اور امیگریشن نظام کی ساکھ کے لیے بھی بڑا چیلنج ہے، جس پر بین الاقوامی سطح پر مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔