واشنگٹن: امریکی سینیٹ نے وینزویلا کے معاملے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ایک غیر معمولی دو جماعتی اقدام کرتے ہوئے ان کے فوجی اختیارات محدود کرنے کی قرارداد کی راہ ہموار کر دی ہے۔ یہ اقدام وینزویلا کے صدر نکولس مدورو کی خفیہ گرفتاری اور امریکی فوجی کارروائیوں پر بڑھتے ہوئے خدشات کے بعد سامنے آیا ہے۔
اے ایف پی کے مطابق ڈیموکریٹس کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد کے حق میں اہم ابتدائی ووٹنگ میں5 ری پبلکن سینیٹرز نے بھی حمایت کی۔ قرارداد کے تحت کانگریس کی واضح منظوری کے بغیر وینزویلا کے خلاف مزید امریکی فوجی کارروائیوں پر پابندی عائد کی جائے گی۔
حتمی ووٹ آئندہ ہفتے متوقع ہے، جسے محض رسمی کارروائی سمجھا جا رہا ہے۔ منظوری کی صورت میں یہ دہائیوں بعد کانگریس کی جانب سے جنگی اختیارات پر سب سے مضبوط مؤقف ہوگا۔
تاہم حقیقت یہ ہے کہ یہ اقدام زیادہ تر علامتی سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ ایوانِ نمائندگان میں اس کی منظوری مشکل ہے اور صدر ٹرمپ کے ممکنہ ویٹو کے بعد اس کے قانون بننے کے امکانات تقریباً نہ ہونے کے برابر ہیں۔
یہ قرارداد اس وقت سامنے آئی جب امریکا نے وینزویلا میں فضائی اور بحری حملوں کے ساتھ ساتھ دارالحکومت کاراکاس میں رات گئے کارروائی کر کے صدر نکولس مدورو کو گرفتار کیا۔ دونوں جماعتوں کے اراکینِ کانگریس کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں محض قانون نافذ کرنے کی حد سے کہیں آگے جا کر کھلی جنگ کے زمرے میں آتی ہیں۔
ری پبلکن سینیٹر رینڈ پال، جو اس قرارداد کے شریک اسپانسر ہیں، نے واضح الفاظ میں کہا: “کسی دوسرے ملک کے دارالحکومت پر بمباری کرنا اور اس کے سربراہ کو ہٹانا سیدھی جنگ ہے۔ آئین صدر کو ایسا اختیار نہیں دیتا۔”
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے نیویارک ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ امریکا برسوں تک وینزویلا کا انتظام سنبھال سکتا ہے اور وہاں کے تیل کے ذخائر سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کب تک براہِ راست نگرانی رکھے گا، اس کا فیصلہ وقت کرے گا۔
ڈیموکریٹس اس قرارداد کو آئینی حد بندی قرار دے رہے ہیں اور الزام عائد کر رہے ہیں کہ انتظامیہ نے مہینوں تک گمراہ کن بریفنگز دیں، حتیٰ کہ نومبر تک یہ یقین دہانی کروائی جاتی رہی کہ وینزویلا میں حملوں کا کوئی منصوبہ نہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ مدورو کے خلاف کارروائی بین الاقوامی منشیات اسمگلنگ کے خلاف وسیع تر مہم کا حصہ تھی اور اسے دہشت گرد قرار دیے گئے کارٹلز کے خلاف آپریشن بتایا جا رہا ہے۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos