ایران میں احتجاج

ایران میں مظاہرے شدید۔تہران کی سڑکوں پر پہلوی زندہ باد کے نعرے

ایران میں معاشی بحران کے خلاف مظاہروں کے دوران اموات کا سلسلہ بڑھ کر 45 تک پہنچ گیا جس میں 8 کم عمر بھی شامل ہیں ۔ایرانی میڈیا کے مطابق احتجاج کے دوران ہتھیاروں سے لیس شرپسندوں کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ اور براہ راست فائرنگ بھی کی گئی۔رپورٹس کے مطابق پُرتشدد احتجاج کو کنٹرول کرنے اور اسے مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے ملک بھر میں پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں کی اضافی نفری تعینات کردی گئی ہے۔ملک بھرمیں انٹرنیٹ سروس بھی بندکردی گئی ہے۔انٹرنیٹ پر نظر رکھنے والی ایک تنظیم نے اس اقدام کو ممکنہ پرتشدد کریک ڈاؤن کا پیش خیمہ قرار دیا ہے، حالانکہ بلیک آؤٹ نے فوری طور پر مظاہروں کی ویڈیوز پوسٹ کرنے سے نہیں روکا۔

فوٹیجز میں مظاہرین کو ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی معزولی اور سابق شاہ مرحوم کے جلاوطن بیٹے رضا پہلوی کی واپسی کا مطالبہ کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے، جنہوں نے اپنے حامیوں سے سڑکوں پر نکلنے کی اپیل کی تھی۔تہران میں ’’شاہ زندہ باد‘‘اور ’’یہ آخری جنگ ہے! پہلوی واپس آئے گا‘‘ کے نعرے لگائے جارہے ہیں۔

ایک غیر سرکاری تنظیم ایران ہیومن رائٹس (آئی ایچ آر)نے کہا ہے کہ بدھ کو مظاہروں کا سب سے خونریز دن تھا، جس میں 13 مظاہرین کے مارے جانے کی تصدیق ہوئی۔ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوزایجنسی (ہرانا)کے مطابق 42 اموات ہوچکی ہیں جن میں5 بچے اور 8سیکیورٹی اہل کار شامل ہیں۔اے ایف پی کے مطابق، بدامنی شروع ہونے کے بعد سے ایرانی میڈیا اور سرکاری بیانات میں سکیورٹی فورسز سمیت کم از کم 21 افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔بی بی سی فارسی نے 22 ہلاکتوں اور شناخت کی تصدیق کی ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے نے ایرانی حکام کے حوالے سے6 سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت بھی بتائی ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ بچوں سمیت کم ازکم 28 افرادمارے گئے ہیں،تاہم یہ اعدادوشمار 3جنوری تک ہیں۔

کرد ہیومن رائٹس گروپ ہینگاو کے مطابق، کم از کم 17 مظاہرین ایلام، کرمانشاہ اور لورستان میں سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں مارے گئے ہیں، اور ان میں سے بہت سے کرد یانسلی اقلیت لور سے تعلق رکھتے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مظاہرین کے خلاف کارروائی کی صورت میں ایک بار پھر ایران کو سخت وارننگ دیدی۔امریکی صدر نے ایک انٹر ویو کے دوران متنبہ کیا کہ اگر احتجاج کے دوران مظاہرین کو قتل کیا گیا تو وہ ایران کو بھرپور اور بہت سخت جواب دیں گے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایران کو واضح طور پر بتا دیا ہے کہ اگر لوگوں کو قتل کرنا شروع کیا، جیسا کہ وہ عموماً کرتے ہیں، تو وہ خاموش نہیں بیٹھیں گے
۔
انٹرویو کے دوران جب میزبان نے کہا کہ مظاہروں میں درجنوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں تو صدر ٹرمپ نے جواب دیا کہ بعض اموات بھگدڑ کے باعث بھی ہوئیں اور ضروری نہیں کہ یہ سکیورٹی فورسز کی کارروائی کا نتیجہ ہوں۔ٹرمپ نے کہا کہ وہ ہر موت کا ذمہ دار کسی ایک فریق کو نہیں ٹھہرا سکتے لیکن ایران کو سختی سے خبردار کر دیا گیا ہے کہ اگر ایسا ہوا تو انہیں اس کی بھاری قیمت چکانا ہوگی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔