ڈنمارک کے وزیر دفاع نے خبردار کیا ہے کہ اگر گرین لینڈ پر کسی بھی قسم کا حملہ ہوا تو ڈینش فوج فوری کارروائی کرے گی اور "گولی پہلے، سوال بعد” کے اصول کے تحت دشمن کا مقابلہ کرے گی۔
ذرائع کے مطابق یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا نے گرین لینڈ کے حوالے سے سخت موقف اختیار کیا ہے اور ممکنہ فوجی کارروائی کے اشارے دیے ہیں۔ وزیر دفاع نے واضح کیا کہ گرین لینڈ ڈنمارک کا خودمختار علاقہ ہے اور اس کے دفاع میں کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
ڈنمارک کی فوج کو یہ ذمہ داری ایک پرانے حکم کے تحت دی گئی ہے جو 1952 میں جاری کیا گیا تھا۔ اس حکم کے مطابق کسی بھی غیر ملکی خطرے کی صورت میں فوج قیادت کے احکامات یا اعلان جنگ کا انتظار کیے بغیر کارروائی کرے گی۔ یہ اصول 1940 میں نازی جرمنی کے حملے کے بعد بنایا گیا تھا، جب مواصلاتی نظام متاثر ہونے کی وجہ سے فوج کو فوری کارروائی کے لیے آزاد چھوڑا گیا۔+
❕ Denmark Will Shoot First and Ask Questions Later in Case of a U.S. Invasion of Greenland — The Telegraph
Denmark’s Ministry of Defence has confirmed that a 1952 rule remains in force. If foreign troops invade Danish territory — including Greenland — Danish soldiers are… pic.twitter.com/CCHRMimk9W
— NEXTA (@nexta_tv) January 8, 2026
ڈنمارک کی وزیراعظم میٹے فریڈرکسن نے بھی امریکا کی جانب سے گرین لینڈ کے ممکنہ قبضے پر سخت ردعمل دیا اور کہا کہ اگر امریکا نے کسی نیٹو رکن ملک پر حملہ کیا تو نیٹو اتحاد کی بنیادیں خطرے میں پڑ جائیں گی۔
دریں اثنا جوائنٹ آرکٹک کمانڈ، جو گرین لینڈ میں ڈنمارک کی فوجی اتھارٹی ہے، کسی بھی واقعے کو حملہ تصور کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرے گی۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے یورپی رہنماؤں کو بھی خبردار کیا ہے کہ گرین لینڈ کی سکیورٹی پر سنجیدہ توجہ نہ دی گئی تو امریکا خود کارروائی کر سکتا ہے، کیونکہ یہ خطہ عالمی میزائل دفاعی نظام میں اہمیت رکھتا ہے۔
اس سے قبل سات یورپی ممالک نے مشترکہ بیان میں کہا کہ گرین لینڈ کے مستقبل کا فیصلہ صرف گرین لینڈ اور ڈنمارک کا حق ہے۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos