دنیا بھر کے ممالک پر فوجی طاقت کے استعمال کا اختیار رکھتا ہوں،صدر ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ بطور کمانڈر اِن چیف وہ دنیا بھر کے ممالک پر فوجی طاقت استعمال کرنے کے اختیارات رکھتے ہیں، اور ان کے فیصلوں میں صرف ان کی اپنی اخلاقیات اور سوچ ہی محدود کر سکتی ہے، بین الاقوامی قوانین یا ضوابط نہیں۔

نیویارک ٹائمز کو دیے گئے تفصیلی انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ عالمی سطح پر طاقت کے استعمال سے متعلق ان کے نظریے غیر روایتی اور سخت ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی قانون کی ضرورت صرف اسی صورت میں ہے جب نقصان پہنچانے کی نیت ہو، اور ان کے مطابق قومی مفاد اور طاقت ہی امریکی خارجہ پالیسی کی ترجیح ہونی چاہیے۔

صدر ٹرمپ نے گرین لینڈ کے معاملے پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ 1951 کے معاہدے کے تحت امریکی فوجی اڈے دوبارہ کھولنا کافی نہیں، بلکہ اس علاقے پر مکمل کنٹرول اہم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گرین لینڈ ٹیکساس سے تین گنا بڑا ہے، لیکن وہاں کی آبادی صرف 60 ہزار سے کم ہے، اور کسی نیٹو اتحادی کا کنٹرول ان کے نزدیک خاص اہمیت نہیں رکھتا۔

یورپ سے تعلقات کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ یورپی ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں، لیکن امریکا کی ذمہ داریاں پوری کرنا لازم ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر امریکا موجود نہ ہوتا تو روس اس وقت پورے یوکرین پر قابض ہو چکا ہوتا۔

انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے پہلی بار یہ واضح کیا کہ عالمی سیاست میں طاقت کے فیصلے قوانین اور روایات کے بجائے قومی قوت اور حکمت عملی سے کیے جانے چاہئیں، اور امریکی برتری یقینی بنانے کے لیے فوجی، معاشی اور سیاسی ذرائع استعمال کرنا ان کی ترجیح ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔