کیف: روس نے یوکرین پر سینکڑوں ڈرونز اور درجنوں میزائلوں سے بمباری کی جس میں رات بھر بڑے پیمانے پر حملے کیے گئے جس کے نتیجے میں کم از کم 4 افراد ہلاک ہوئے۔
یوکرین کی فضائیہ کے حکام نے جمعہ کی صبح بتایا کہ روس نے رات بھر یوکرین پر 242 ڈرونز اور 36 میزائلوں سے حملہ کیا۔
حکام کے مطابق دارالحکومت کیف میں کئی گھنٹوں تک زور دار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی رہیں، اس حملے کے نتیجے میں کم از کم 4 افراد ہلاک اور 25 زخمی ہوئے۔
تقریباً 4 سال سے جاری جنگ میں صرف دوسری بار روس نے ایک طاقتور، نئے ہائپرسونک میزائل کا استعمال کیا جس نے کیف کے نیٹو اتحادیوں کو واضح انتباہ دیتے ہوئے مغربی یوکرین کو نشانہ بنایا۔
روس کی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ یہ حملہ دسمبر کے آخر میں یوکرین کی جانب سے مبینہ طور پر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی رہائش گاہ کو نشانہ بنانے والے ڈرون حملے کے جواب میں کیا گیا۔اگرچہ روسی وزارتِ دفاع نے یہ واضح نہیں کیا کہ اوریشنک میزائل کا ہدف کیا تھا تاہم مقامی وقت کے مطابق آدھی رات سے کچھ پہلے سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز سامنے آئیں جن میں مغربی شہر لویو کے مضافات میں متعدد دھماکے دیکھے جا سکتے تھے۔
یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی اور دیگر حکام نے تصدیق کی کہ لویو میں کچھ تنصیبات کو ایک بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا گیا، یہ شہر پولینڈ کی سرحد سے تقریباً 60 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔اوریشنک ایک درمیانے فاصلے تک مار کرنے والا ہائپرسونک بیلسٹک میزائل ہے جو ممکنہ طور پرساڑھے 5 ہزار کلومیٹر دور تک ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس میزائل کا وارہیڈ آخری مرحلے میں کئی حصوں میں تقسیم ہو جاتا ہے جو الگ الگ اہداف پر گرتے ہیں اور وقفے وقفے سے متعدد دھماکوں کا سبب بنتے ہیں۔یوکرین کے وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ یورپی یونین اور نیٹو کی سرحد کے قریب اس نوعیت کا حملہ یورپی براعظم کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos