ایران میں معاشی بحران کے خلاف احتجاج سے شروع ہونے والے مظاہروں پرکریک ڈائون میں 200 سے زائد اموات کی اطلاعات ہیں۔ جریدہ ’’ ٹائم‘‘ نے کہا ہے کہ جمعرات کی رات ایران کی حکومت کے خلاف مظاہروں میں نمایاں اضافہ ہونے کے بعدحکام نے کئی جگہوں پر فائرنگ کرکے 200سے زائد افرادکوموت کے گھاٹ اتاردیا۔ تہران کے ایک ڈاکٹر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر’’ ٹائم‘‘ کو بتایا کہ دارالحکومت کے صرف 6 ہسپتالوں میں کم از کم 217 مظاہرین کی موت ریکارڈ کی گئی ہے، جوزیادہ تر گولہ بارود سے ہوئی۔
الجزیرہ اور ایسوسی ایٹڈ پریس نے کہا ہے کہ مظاہروں میں کم از کم 62 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جو حکومت کے لیے سب سے اہم چیلنج میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ ایرانی حقوق کے گروپوں نے کہا کہ کم از کم 62 افراد ہلاک ہوئے ہیں، جن میں 48 مظاہرین اور 14 سیکیورٹی اہلکار شامل ہیں۔برطانوی اخبار گارڈین کا کہناہے کہ امریکہ میں قائم انسانی حقوق کے کارکنوں کی خبر رساں ایجنسی کے مطابق، مظاہروں کے دوران تشدد میں کم از کم 50 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، 2270سے زیادہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔
امریکی صدرٹرمپ نے فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ سپریم لیڈر ایران سے فرار ہونے کی تیاری کر رہے ہیں۔وہ کہیں جانے کی تلاش میں ہے۔
ایران کے زیر ملکیت پریس ٹی وی نے رپورٹ کیا کہ ایک اسرائیلی جاسوس سیل فالس فلیگ آپریشن کر رہا ہے جس کا مقصد شہریوں کی ہلاکتوں کا ذمہ دار ریاست کو ٹھہرانا ہے۔
بیروت میں خطاب کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بیرون ملک مداخلت کے دعووں کی بازگشت کی۔ انہوں نے کہا کہ ایران میں جو مظاہرے ہو رہے ہیں وہ دوسرے ممالک میں ہونے والے مظاہروں سے مختلف ہیں کیونکہ مظاہروں میں امریکہ اور اسرائیل کی مداخلت ہے۔ آپ کو امریکہ اور اسرائیل کے تمام بیانات کو دیکھنے کی ضرورت ہے کہ وہ کس طرح مداخلت کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: رضاپہلوی کی تصاویر اورانقلاب سے پہلے کاپرچم۔ایرانی تحریک نے کیارخ اختیارکرلیا؟
ٹائم میگزین کی رپورٹ میں ڈاکٹرزکے حوالے سے کہاگیاہے کہ حکام نے جمعہ کو ہسپتال سے لاشیں ہٹا دیں۔ مرنے والوں میں زیادہ تر نوجوان تھے،ان میں شمالی تہران کے ایک پولیس سٹیشن کے باہر متعدد ہلاکتیں بھی شامل تھیں جب سیکورٹی فورسز نے مظاہرین پر مشین گن سے گولیاں برسائیں ، جو موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔ کارکنوں نے بتایا کہ اس واقعے میں کم از کم 30 افراد کو گولی مار دی گئی۔
ٹائمزآف اسرائیل نے لکھاہے کہ نوبل امن انعام یافتہ شیریں عبادی نےخبردار کیا تھاکہ سیکورٹی فورسز ملک بھر میں انٹرنیٹ بند کرنے کے بعد مواصلاتی بلیک آؤٹ کی آڑ میں قتل عام کرنے کی تیاری کر رہی ہیں۔
انہوںنے اپنے آفیشل ٹیلی گرام اکاؤنٹ پر کہا کہ انٹرنیٹ بند ہونا ایک حربہ ہے۔عبادی کے مطابق انہیں یہ اطلاع ملی ہے کہ جمعرات کو سینکڑوں افراد کو تہران کے ایک ہسپتال میں لے جایا گیا ہے جن میں پیلٹ گن فائر سے آنکھوں میں شدید چوٹیں آئیں۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos