علاقائی تنازعات اور معرکۂ حق میں ناکامی کے بعد بھارت کی سفارتی مشکلات میں اضافہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے، جس کے نتیجے میں نئی دہلی نے امریکا میں اپنی ساکھ بہتر بنانے کے لیے لابنگ کمپنیوں پر انحصار بڑھا دیا ہے۔
امریکی تحقیقاتی ادارے اوپن سیکرٹس اور بھارتی اخبار دی انڈین ایکسپریس کی رپورٹس کے مطابق بھارتی حکومت نے 2025 کے دوران امریکا میں متعدد لابنگ فرموں کی خدمات حاصل کیں تاکہ عالمی سطح پر متاثر ہونے والی ساکھ کو بہتر بنایا جا سکے۔
اوپن سیکرٹس کی رپورٹ کے مطابق بھارت نے امریکی لابنگ فرم بی جی آر گروپ کو تقریباً 4 لاکھ 50 ہزار ڈالر ادا کیے، جس کا مقصد واشنگٹن میں سفارتی اثر و رسوخ بحال کرنا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارتی میڈیا نے بھی امریکا میں کی جانے والی اس لابنگ سرگرمیوں کی تصدیق کی ہے۔
دی انڈین ایکسپریس کے مطابق آپریشن سندور میں ناکامی کے بعد بھارتی حکومت نے امریکی سیاسی حلقوں سے روابط بڑھانے کے لیے لابنگ کا سہارا لیا اور سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ تک رسائی کی کوششیں کیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارت نے آپریشن سندور سے متعلق بیانیے کو تقویت دینے کے لیے امریکی اداروں سے رابطے کیے، جبکہ اعلیٰ سطح ملاقاتوں کے انعقاد کے لیے ایس ایچ ڈبلیو نامی لابنگ فرم کی خدمات بھی حاصل کی گئیں۔
ذرائع کے مطابق ایس ایچ ڈبلیو کو سالانہ 1.8 ملین ڈالر ادا کیے گئے، جبکہ مرکری پبلک افیئرز نامی لابنگ کمپنی کو سہ ماہی بنیادوں پر 75 ہزار ڈالر دیے گئے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ تمام اقدامات بھارت کی بڑھتی ہوئی سفارتی کمزوریوں اور عالمی سطح پر مؤقف کو مؤثر انداز میں پیش کرنے میں ناکامی کی عکاسی کرتے ہیں۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos