گرین لینڈ کی پارلیمنٹ میں موجود تمام پانچ سیاسی جماعتوں نے متفقہ طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ گرین لینڈ نہ تو امریکا کا حصہ بننا چاہتا ہے اور نہ ہی ڈنمارک کا، بلکہ اپنی الگ شناخت کے ساتھ خودمختار رہنا چاہتا ہے۔
مشترکہ بیان میں سیاسی جماعتوں نے کہا کہ گرین لینڈ کا مستقبل صرف اور صرف یہاں کے عوام کے فیصلوں سے طے ہوگا، اور یہ خطہ کسی صورت فروخت یا زبردستی شامل کیے جانے کے لیے نہیں ہے۔
گرین لینڈ کے وزیر اعظم مُٹے ایگیدی نے بھی اسی مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ گرین لینڈ کے عوام خود کو کلالیت کہتے ہیں اور وہ کسی بیرونی طاقت کے زیرِ اثر نہیں آنا چاہتے۔ ان کا کہنا تھا کہ گرین لینڈ نہ فروخت ہو سکتا ہے اور نہ ہی کسی کے قبضے میں دیا جا سکتا ہے۔
ادھر ڈیموکریٹٹ پارٹی کے رہنما جینز فریڈرک نیلسن نے بھی امریکی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ گرین لینڈ کی حیثیت تبدیل کرنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
سیاسی قیادت اور عوامی نمائندوں نے امریکی بیانات کو دھمکی آمیز اور توہین آمیز قرار دیا، خاص طور پر اس تناظر میں کہ گرین لینڈ پر دباؤ ڈال کر اس کی حیثیت تبدیل کرنے کی بات کی گئی۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos