طالبان کے کابل پر کنٹرول کے تقریباً پانچ برس بعد، طالبان کی جانب سے مقرر کیا گیا پہلا سفارت کار افغانستان کے سفارت خانے کا چارج سنبھالنے کے لیے بھارت پہنچ گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق طالبان کی وزارت خارجہ کے سینئر عہدیدار مفتی نور احمد نور دہلی پہنچ چکے ہیں اور امکان ہے کہ وہ افغان سفارت خانے میں چارج ڈی افیئرز کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت اکتوبر 2025 میں طالبان کے قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی کے دورۂ بھارت کے بعد ممکن ہوئی، جہاں انہوں نے بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے ملاقات کی تھی۔ اسی دورے کے دوران دونوں فریقین کے درمیان دہلی میں طالبان کے سفارتی نمائندے کی تعیناتی پر اتفاق ہوا تھا۔
مفتی نور احمد نور طالبان کے سینئر رہنما سمجھے جاتے ہیں اور اس سے قبل وہ امیر خان متقی کے ہمراہ بھارت کے سرکاری دورے میں شریک رہے، جہاں انہوں نے دیوبند میں دارالعلوم کا بھی دورہ کیا تھا۔ بعد ازاں دسمبر 2025 میں انہوں نے ڈھاکہ کا دورہ بھی کیا، جہاں مختلف مذہبی و سیاسی شخصیات سے ملاقاتوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔
تاہم حکام کے مطابق مفتی نور کو تاحال تقرری کے باضابطہ کاغذات موصول نہیں ہوئے اور طالبان کی وزارت خارجہ کی جانب سے ان کی تعیناتی کا سرکاری اعلان بھی نہیں کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ اپریل 2023 میں طالبان کی جانب سے دہلی میں چارج ڈی افیئرز کی تقرری کی ایک کوشش اس وقت ناکام ہو گئی تھی جب سفارت خانے کے عملے نے نامزد اہلکار کو داخلے کی اجازت نہیں دی تھی۔ بعد ازاں طالبان ممبئی کے افغان قونصل خانے میں اپنا نمائندہ تعینات کرنے میں کامیاب رہے۔
اس وقت دہلی میں افغان سفارت خانے کی ذمہ داریاں سابق اشرف غنی حکومت کے مقرر کردہ محمد ابراہیم خیل انجام دے رہے ہیں، تاہم ان کی آئندہ تعیناتی کے حوالے سے صورتحال غیر واضح ہے۔ ممبئی اور حیدرآباد کے افغان قونصل خانے کے اہلکار بھی اس وقت دہلی میں موجود ہیں۔
بھارت اب تک طالبان کو افغانستان کی باضابطہ حکومت تسلیم نہیں کرتا، تاہم 2022 میں کابل میں تکنیکی مشن کی بحالی کے بعد دونوں فریقین کے درمیان روابط میں بتدریج اضافہ ہوا ہے۔ اکتوبر 2025 میں بھارتی وزارت خارجہ نے کابل میں اپنے مشن کو سفارت خانے کا درجہ دینے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد طالبان کی جانب سے بھی دہلی میں سفارتی نمائندگی کی راہ ہموار ہوئی۔
حکام کے مطابق فی الحال دہلی میں افغان سفارت خانے میں سابق حکومت کا پرچم اور عملہ برقرار رہے گا، تاہم طالبان کے مقرر کردہ نمائندے کے باضابطہ طور پر چارج سنبھالنے کے بعد اس میں تبدیلی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos