حقوق خلق پارٹی کاتحریکِ تحفظِ آئین کے احتجاج میں باقاعدہ شرکت کا اعلان

بائیں باز کی جماعت حقوق خلق پارٹی نے تحریکِ تحفظِ آئین کے احتجاج میں باقاعدہ شرکت کا اعلان کردیا ہے۔یہ اعلان تحریکِ تحفط آئین کی قیادت کرنے والے پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے چیئر مین محمود خاں اچکزئی ، مجلس وحدتِ اسلامی کے سربراہ راجہ ناصر عباس اور پاکستان عوام پارٹی کے رہنما کے مرکزی رہنما مصطفی نواز کھوکھر کے ساتھ پریس کانفرنس میں کیاگیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم آئین کی پاسداری جمہوریت کے استحکام اور ملکی سالمیت کیلئے اس تحریک کا حصہ بنے ہیں۔

پشتونخوانیشنل عوامی پارٹی کے چیئر مین محمود خاں اچکزئی ، کا کہنا تھا کہ سندھ سمیت سب سے بات کریں گے ، ہر جگہ جائیں گے تاہم پیپلز پارٹی نے آئینی ترمیم میں جو کردار ادا کیا ہے اسے اس پر معافی مانگنا ہوگی اور نوازشریف کو بھی تاریخ معاف کرے ، ہم8 فروری کو بھرپور پر امن احتجاج کریں گے ۔ بعد میں” امت” سے گفتگو کرتے ہوئے حقوق خلق پارٹی کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر عمارجان سے جب یہ دریافت کیا گیا ہے کہ جس پارٹی کی پالیسیوں کے خلاف کارکن احتجاج کرتے رہے ہیں ، اب اسی پارٹی کے ساتھ کیسے کھڑے ہوگئے اور کیا پی ٹی آئی کے کارکنوں کی جگہ سخت گیر حالات میں ِ ایندھن بنیں گے ؟ تو ان کا کہنا تھا کہ ہم آئین کے تحفظ کیلئے کوئی بھی قربانی دے سکتے ہیں ، آئین ہی اہم ہے ، اور اس کے لئے جیل جاسکتے ہیں ، جہاں تک جس جماعت کے خلاف احتجاج کرتے رہے ، اسی کے ساتھ کھڑے ہوکر کارکنوں کو سڑکوں تھانوں اور کچہریوں کے جہنم کا ایندھن بننے کیلئے بھی کارکن تیار ہیں ، ہماری پی ٹی آئی اور تحریکِ تحفظِ آئین کی قیادت سے تفصیلی گفتگو ہوئی ہے جس میں تمام آئینی حقوق اور مزدوروں کے حقوق کی پاسداری کی گارنٹی دی گئی ہے جہاں تک کمٹمنٹ پر قائم رہنے کی بات ہے تو ہم اپنی کمٹمنٹ پر قائم ہیں اور دوسروں سے بھی یہی توقع رکھتے ہیں۔

ڈاکٹر عمار کا مزید کہناتھاکہ ہمارے کارکن پہلے بھی کون سے حقوق حاصل کرپائے ہیں ، پہلے ہی جیلوں جیسی صورتحال ہے ، ہم سمجھتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے ساتھ ہمارے کارکن چلیں گے اور مشکلات کا سامنا بھی کریں گے ، ہم آٹھ فروری کو بھر پور ساتھ دیں گے۔

یاد رہے کہ حقوقِ خلق پارٹی اپنے قیام کے بعد پہلی بار پی ٹی آئی کی حلیف بنی ہے ،اس کے کارکن پارٹی کا اعلان ہونے سے پہلے مرحلے میں وکلاتحریک میں پی ٹی آئی کے حلیف رہے لیکن بعد میں پالیسیوں سے اختلاف ہونے سے دل گرفتہ اور مشکلات کا شکار ہوئے ۔ اب پی ٹی آئی کو تحریکِ تحفظِ آئین کے پلیٹ فارم پر گلی محلوں اور سڑکوں پر موبلائزیشن کیلئے نئے کارکن مل گئے ہیں تاہم کارکنوں کی سطح پر ابھی یہ واضح نہیں ہوسکا کہ وہ پی ٹی آئی کے کارکنوں کی جگہ خود مشکلات اٹھائیں گے یا محدود رہیں گے تاہم اسٹوڈنٹ گروپ کے ایک رہنمامزمل کاکڑ کا کہنا ہے کہ ہم اور ہمارے ساتھی پی ٹی آئی کے دور اقتدار میں یونیورسٹیوں اور کالجوں میںطلبا پر مظالم ، مقدمات کے اندراج جیسے مصائب و مشکلات نہیں بھولے اور یہ تمام امور تفصیل کے ساتھ ڈسکس کیے گئے ہیں، اپنی نظریاتی شناخت اور سوچ کے ساتھ آگے بڑھیں گے ، پی ٹی آئی کو فالو نہیں کریں گے، اپنے طریقِ کار کے مطابق اپنے ایجنڈے پر ایک حلیف کی حیثیت سے کام کریں گے ۔ ہم اپنے حصے کا کام کریں گے پی ٹی آئی سمیت دوسری جماعتیں اپنے حصے کا اپنے طریقِ کار کے مطابق کام کریں گی ، ہمارا راستہ عدم تشدد اور ڈائیلاگ کا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔