کم ازکم 200’’ رنگ لیڈرز‘‘ گرفتار کرلیے،ایران۔’’مددآرہی ہے‘‘امریکی حکومت

ایران کے سرکاری میڈیا، پریس ٹی وی نے اطلاع دی ہے کہ کم از کم 200 ’’رنگ لیڈرز‘‘ کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ان کے محفوظ ٹھکانوںسے ہتھیاروں کا ایک بڑاذخیرہ بھی دریافت ہوا ہے۔ سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا کہ ان کے دہشت گرد گروپوں سے تعلقات تھے۔قبل ازیںنیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے بتایاتھا کہ تہران کے قریب ایرانی شہربہارستان میں امن وامان برباد اور فسادات کی قیادت کرنے پر 100 افراد کو گرفتار کیا گیا۔

دریں اثنا، امریکہ میں قائم انسانی حقوق کے کارکنوں کی نیوز ایجنسی (HRANA) کے مطابق، بدامنی کے دوران گزشتہ 13 دنوں میں ایران بھر میں2ہزار300سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ یہ تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کی وجہ سے درست اعداد و شمار کا تعین کرنا ممکن نہیں ۔ادھرصدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ ایرانی عوام کی مدد کرنے کے لیے تیار ہے – ایرانی حکومت کے خلاف کھڑے ہونے والوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کا پیغام سوشل میڈیاپر پوسٹ کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہناتھا کہ ایران جس طرح آج آزادی کی طرف دیکھ رہا ہے، شاید پہلے کبھی ایسا نہیں تھا۔ امریکہ مدد کے لیے تیار ہے!۔

جنوبی کیرولائنا سے ٹرمپ کے اتحادی سینیٹر لنڈسے گراہم نے بھی ایرانی عوام سے کہا کہ انہوں نے صدر کی توجہ اپنی طرف مبذول کر لی ہے، یہ پیش گوئی کرتے ہوئے کہ ان کا طویل ڈرائونا خواب جلد ہی ختم ہو جائے گا۔گراہم نے اس بات کی وضاحت کی کہ ان کے خیال میں ٹرمپ کا مطلب ہے ایران کو دوبارہ عظیم بنائیںاور اشارہ کیا کہ مدد آرہی ہے۔سینیٹرنے مزید واضح کیا کہ اس کا مطلب ہے کہ ایران میں مظاہرین کو آیت اللہ(سپریم لیڈرعلی خامنائی) پر غالب آنا چاہیے۔ یہ اب تک کا سب سے واضح اشارہ ہے کہ صدر ٹرمپ سمجھتے ہیں کہ ایران آیت اللہ اور ان کے حواریوں کے ساتھ کبھی عظیم نہیں ہوسکے گا۔ ایران میں قربانیاں دینے والے تمام لوگوں کو خدا سلامت رکھے۔ مدد آرہی ہے۔
اس بارے میں مزیدصراحت کے بغیر کہ محکمہ دفاع کیا کردار ادا کرسکتا ہے،وزیردفاع پیٹ ہیگستھ نے ٹرمپ کے پیغام کو دوبارہ پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ امریکہ ایرانی عوام کی مدد کے لیے تیار ہے۔وزیرخارجہ مارکو روبیو نے بھی پوسٹ کیا کہ امریکہ ایران کے بہادر عوام کی حمایت کرتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔