تہران : ایران کے خبر رساں ادارے تسنیم نے جاری بدامنی کے دوران سیکیورٹی فورسز کے ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی تازہ فہرست شائع کردی۔
تسنیم کے مطابق 11 جنوری تک مجموعی طور پر 114 اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔ یہ اعداد و شمار صوبہ بہ صوبہ ایک فہرست کی صورت میں دیے گئے ہیں، جسے تسنیم نے کہا ہے کہ مسلسل اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ہلاک ہونے والوں میں پولیس، پاسدارانِ انقلاب اسلامی (آئی آر جی سی) اور اس کی نیم فوجی تنظیم بسیج کے اہلکار شامل ہیں۔
مرکزی صوبہ اصفہان میں سب سے زیادہ 30 ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں، اس کے بعد قزوین میں 9، جبکہ کئی دیگر صوبوں میں ایک سے8 ہلاکتیں درج کی گئیں۔ دارالحکومت تہران میں مرنے والوں کی فہرست میں یہ تعداد ’غیر متعین‘ بتائی گئی ہے کیونکہ تسنیم کے مطابق وہاں کے اعداد و شمارکا ابھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
خبر رساں ادارے نے تشدد کو ’مسلح دہشت گردوں‘ اور غیر ملکی حمایت یافتہ گروہوں کا کام قرار دیا اور امریکہ، اسرائیل اور اپوزیشن تنظیموں پر ایران کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کا الزام لگایا۔
ایرانی عدلیہ نے اعلان کیا ہے کہ تشدد میں ملوث افراد پر ’محاربہ‘ یعنی ’خدا کے خلاف جنگ‘ کا مقدمہ چلایا جائے گا، جس کی سزا موت ہے۔
پولیس اور سکیورٹی اداروں نے خاندانوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ’اپنے بچوں کا خیال رکھیں‘ کیونکہ بعض اجتماعات میں مسلح گروہوں کی موجودگی کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔ حکام نے کہا ہے کہ ’دہشت گردوں‘ کے خلاف کارروائی میں کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos