آسٹریلیاکے جنگلات میں آگ لگنے سے 1 ہلاکت اور 300 املاک تباہ

 

جنوب مشرقی آسٹریلیا میں لگنے والی جنگلاتی آگ میں ایک شخص ہلاک اور 300 املاک تباہ ہو گئی ہیں۔

گرمی کی وجہ سے آسٹریلیا میں کئی دنوں سے ملک بھر کے درجنوں مقامات پر آگ بھڑک رہی ہے، زیادہ ترواقعات ریاست وکٹوریہ میں پیش آئے ہیں، اس کے علاوہ نیو ساؤتھ ویلز میں بھی کئی مقامات پر آتشزدگی ہورہی ہے، گریٹر لندن فائرکے سائز سے تقریباً دگناآگ بھڑک رہی ہے۔وکٹوریہ میں ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا گیا ہے جہاں ہزاروں فائر فائٹرز اور 70 سے زیادہ طیارے آگ پر قابو پانے میں مصروف ہیں۔ ایک درجن سے زیادہ کمیونٹیز کے رہائشیوں کو علاقہ چھوڑنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

حکام کو خدشہ ہے کہ آگ، جو بہت گرم، خشک اور ہوا کے حالات سے بھڑک رہی ہے، کئی ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہے۔وکٹوریہ کے وزیر اعظم جیسنٹا ایلن نے کہا کہ ریاست بھر میں 30 مقامات آگ کی لپیٹ میں ہیں، جن میں سے 10 خاص طور پر تشویش کا باعث ہیں۔انہوں نے آسٹریلوی میڈیا کو بتایا کہ اتوار کو مقامی وقت کے مطابق 8 بجے تک ریاست بھر میں ساڑھے 3 لاکھ ہیکٹر رقبہ جل چکا ہے۔ آگ لگنے کے یہ واقعات گھروں اور املاک کو خطرہ بنا رہے ہیں۔فاریسٹ فائر مینجمنٹ وکٹوریہ کے چیف فائر آفیسر کرس ہارڈمین نے کہا کہ ممکنہ طور پر فائر فائٹرز کو آگ پر قابو پانے میں کئی ہفتے لگیں گے۔

پولیس نے بتایا کہ دارالحکومت میلبورن سے تقریباً 110 کلومیٹر (70 مربع میل) شمال میں لانگ ووڈ قصبے کے قریب ایک لاش ملی ہے۔

آگ کا دھواں وکٹوریہ کے کئی علاقوں بشمول میٹروپولیٹن میلبورن میں فضاکو آلودہ کر رہا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا کے جنوب مشرق میں 2019-2020 کے بعد لگنے والی یہ سب سے بدترین آگ ہے۔سب سے زیادہ متاثر ہ مقامات میں وکٹوریہ کے وسطی پہاڑی علاقوں کا چھوٹا سا قصبہ ہارکورٹ ہے،مقامی فائر کیپٹن اینڈریو ولسن نے کہا کہ ہارکورٹ میں تباہی بے حد دل خراش ہے۔
آگ نے بڑے پیمانے پرزرعی اراضی اور لائیوسٹاک کوبھی نقصان پہنچایاہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔