ایران میں مظاہروں کےدوران امریکی فوجی مداخلت پر صدرٹرمپ کی انتظامیہ میں تحفظات ہیں۔نشریاتی ادارہ سی این این کے مطابق ،صدارتی مشیروں کو خدشات ہیں کہ فوجی حملے برعکس نتائج پیداکرنے کا باعث بن کر احتجاج کو کمزور کر سکتے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ خدشات یہ ہیں کہ حملوں کا غیر ارادی اثر ایرانی عوام کو حکومت کی حمایت کے لیے اکٹھا کرنے یا ایران کو فوجی طاقت سے جوابی کارروائی پر مجبور کر سکتا ہے۔حکام نے کہا کہ ٹرمپ ایران کی حکومت کو نشانہ بنانے کے لیے کئی آپشنز پر بھی غور کر رہے ہیں کیونکہ وہ ملک میں مظاہرین کی مدد کرنے کے عزم پر عمل پیرا نظر آتے ہیں۔
ایک اہلکار نے بتایا کہ دوسرے آپشنزمیں سائبر آپریشنزبھی شامل ہیں، یہ ایک ایسا قدم ہے جو مظاہروں کو کچلنے کی کوششوں میں خلل ڈال سکتا ہے۔ایران کی حکومتی شخصیات، یا ایرانی معیشت کے شعبوں جیسے توانائی یا بینکنگ کے خلاف نئی پابندیوں پربھی غور کیا جارہاہے۔انتظامیہ نے ایران میں انٹرنیٹ کی بندش کوغیر موثر کرنے کے لیے سٹار لنک جیسی ٹیکنالوجی فراہم کرنےپربھی سوچا ہے، جس سے بلیک آؤٹ کو ختم کرنے میں مدد ملے گی۔ سابق صدر جو بائیڈن نے 2022 میں مظاہروں کے دوران اسی طرح کی پیشکش کی تھی۔
وائٹ ہائوس حکام نے بتایا کہ صدر کے لیے تجاویز تیار کرنےپر متعدد مختلف ایجنسیاںکام کررہی ہیں۔ آنے والےدنوں میں مزید باضابطہ بریفنگ کی توقع ہے، بشمول منگل کو، ٹرمپ کی جانب سے قومی سلامتی کے اعلیٰ عہدیداروں سے ملاقات متوقع ہے تاکہ پیش رفت کے طریقہ پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔
سی این این کا ایرانی ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹ نیوزایجنسی ہرانا کے حوالے سے کہناہے کہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، اب تک ایران میں کم از کم 490 مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں۔ہرانا نے اپ ڈیٹ میں بتایاہے کہ اموات کی تعداد544 ہے۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos