ٹانک اور لکی مروت میں پولیس موبائل کے قریب دھماکا،6 اہلکار شہید

خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں ایک بار پھر سیکیورٹی صورتحال تشویشناک ہو گئی ہے، جہاں ٹانک، لکی مروت اور بنوں میں دہشت گردی کے مختلف واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔

ٹانک میں تھانہ گومل کی حدود میں پولیس موبائل کے قریب زور دار دھماکا ہوا، جس کے نتیجے میں ایڈیشنل ایس ایچ او سمیت چھ پولیس اہلکار شہید اور تین زخمی ہو گئے۔

پولیس کے مطابق دھماکا اس وقت پیش آیا جب پولیس کی گاڑی معمول کے گشت پر تھی۔ شہید ہونے والوں میں ایس ایچ او اسحاق خان، سب انسپکٹر اسلم خان، ڈرائیور عبدالمجید اور ایلیٹ فورس کے اہلکار ارشد علی، حضرت علی اور احسان اللہ شامل ہیں۔

زخمی اہلکاروں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

ادھر لکی مروت میں تھانہ صدر کی حدود میں درہ تنگ کے مقام پر پل کے قریب نصب بارودی مواد کے دھماکے میں ایس ایچ او رازق خان سمیت تین پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اسی راستے سے ڈی پی او لکی مروت کو گزرنا تھا جبکہ ایک روز قبل اسی مقام سے ایک وکیل کے اغوا کا واقعہ بھی پیش آچکا ہے، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔

اس سے قبل ضلع بنوں میں نالہ کاشو پولیس چوکی پر دہشت گردوں نے حملے کی کوشش کی، تاہم پولیس کی بروقت اور مؤثر جوابی کارروائی کے باعث حملہ ناکام بنا دیا گیا۔ پولیس کے مطابق دہشت گردوں نے دو اطراف سے فائرنگ کی، جس پر چوکی پر تعینات اہلکاروں نے فوری طور پر مورچے سنبھال لیے اور حملہ آوروں کو پسپا کر دیا۔

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر بنوں یاسر آفریدی نے واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پولیس فورس ایسی بزدلانہ کارروائیوں سے مرعوب نہیں ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ بنوں پولیس امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ہر وقت الرٹ ہے اور کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔