فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے غزہ کی انتظامی اور حکومتی ذمہ داریاں چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے اختیارات ایک آزاد فلسطینی ٹیکنوکریٹک اتھارٹی کے سپرد کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔
تنظیم کی جانب سے جاری بیان کے مطابق غزہ میں قائم تمام سرکاری اور انتظامی ادارے اب ایک خودمختار فلسطینی ٹیکنوکریٹ باڈی کے تحت کام کریں گے، جو غیر سیاسی اور ماہر شخصیات پر مشتمل ہوگی۔
حماس کے ترجمان حازم قاسم نے اس فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان، جس میں غزہ امن کونسل کے قیام کا ذکر کیا گیا تھا، کے بعد کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق غزہ کے تمام اداروں کو واضح ہدایات دے دی گئی ہیں کہ وہ مکمل اختیارات نئی اتھارٹی کو منتقل کریں۔
حازم قاسم نے کہا کہ غزہ کے انتظامی امور سے علیحدگی کا فیصلہ حتمی ہے اور اس میں کسی قسم کا ابہام نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام کا مقصد نئی انتظامیہ کو بلا رکاوٹ کام کرنے کا موقع فراہم کرنا ہے، جبکہ اختیارات کی منتقلی اس معاہدے کا حصہ ہے جس کے نتیجے میں غزہ میں جنگ بندی ممکن ہوئی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ غزہ کے مستقبل کے انتظامی ڈھانچے سے متعلق منصوبے پر شرم الشیخ میں دستخط کیے گئے تھے، جس میں آئندہ نظم و نسق کے خدوخال واضح طور پر طے کیے گئے ہیں۔
حماس نے یاد دلایا کہ فلسطینی سیاسی دھڑوں کے درمیان پہلے ہی اس بات پر اتفاق ہو چکا ہے کہ غزہ کا انتظام ایک عارضی فلسطینی کمیٹی کے سپرد کیا جائے گا، جو آزاد شخصیات اور مقامی ماہرین پر مشتمل ہوگی۔ یہ اتفاق گزشتہ سال 24 اکتوبر کو قاہرہ میں ہونے والے فلسطینی اجلاس میں طے پایا تھا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل حماس کے سیاسی بیورو کے رکن باسم نعیم بھی اس بات کا اعلان کر چکے ہیں کہ غزہ میں ایک بااختیار فلسطینی حکومت کے قیام کے بعد حماس انتظامی کردار سے مکمل طور پر الگ ہونے کے لیے تیار ہے۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos