بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی وادی شکسگام میں چین کی جانب سے جاری بنیادی ڈھانچے کے ترقیاتی منصوبوں پر سخت تنقید کی اور کہا کہ یہ علاقہ بھارتی سرزمین کا حصہ ہے۔ بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ بھارت اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کو تسلیم نہیں کرتا۔
بھارتی ترجمان نے مزید کہا کہ بھارت نے 1963 میں چین اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے سرحدی معاہدے کو کبھی تسلیم نہیں کیا اور اسے غیر قانونی اور ناقابلِ قبول سمجھتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ چین ترقیاتی سرمایہ کاری کے ذریعے اس علاقے پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
چین کی وزارتِ خارجہ کی ترجمان اور انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کی ڈائریکٹر ماؤ نِنگ نے اس پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ شکسگام وادی چین کا حصہ ہے اور اپنے علاقے میں انفراسٹرکچر کی تعمیر چین کا مکمل اور جائز حق ہے۔
ماؤ نِنگ نے واضح کیا کہ چین اور پاکستان نے 1960 کی دہائی میں ایک سرحدی معاہدہ کیا تھا، جس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان سرحد طے ہوئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) ایک اقتصادی تعاون کا منصوبہ ہے، جس کا مقصد مقامی سماجی اور اقتصادی ترقی اور عوام کے معیارِ زندگی میں بہتری ہے۔
چینی ترجمان نے کہا کہ سرحدی معاہدہ اور سی پیک، کشمیر کے مسئلے پر چین کے موقف کو متاثر نہیں کرتے اور اس معاملے پر چین کا موقف بدستور وہی ہے۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos