اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کا طیارہ بم باری کے خوف سے ملک سے باہر منتقل کر دیا گیا ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ اقدام امریکی اور ایرانی کشیدگی اور تقریبا دو ہفتوں سے جاری احتجاجی مظاہروں کے پس منظر میں امریکی صدر کی جانب سے تہران پر حملے کی دھمکی کے پیشِ نظر کیا گیا ہے۔ فلائٹ ریڈارویب سائٹ نے نیتن یاہو کے طیارے کا نامعلوم منزل کی جانب اڑان بھرتے ہوئے پتا چلایا تھا۔
موصولہ معلومات کے مطابق، صدارتی طیارہ ”ونگ آف زون”جنوبی اسرائیل میں واقع”نفاتیم”فضائی اڈے سے اسرائیلی فضائی حدود سے باہر نکل گیا۔ممکنہ طور پر یہ ایک احتیاطی تدبیر ہے کہ اگر امریکہ نے ایران پر حملہ کیا تو ایران جواب میں”نفاتیم”ایئر بیس پر بم باری کر سکتا ہے۔
اسرائیلی چینل 12 کے مطابق یہ اقدام مختلف منظرناموں کی مشق کے سلسلے میں سامنے آیا ہے۔ایسا ہی اسرائیل اور ایران کے درمیان 12 روزہ جنگ کے پہلے دن بھی ہوا تھا۔13 جون 2025کو جب اسرائیل نے ایران پر فضائی حملے شروع کیے تھے، تو یہ طیارہ بن گوریون ایئرپورٹ سے ملک چھوڑ گیا تھا۔ اس سے قبل اسی سال 13اپریل کو، ایران کے ممکنہ میزائل حملے سے کچھ دیر پہلے،ونگ آف زون،طیارے نے نفاتیم ایئر بیس چھوڑ دیا تھا۔
بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے فوری طور پر وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم کے طیارے کی روانگی ایک پہلے سے طے شدہ معمول کی تربیتی پرواز کا حصہ ہے۔
ایرانی حکومت نے دھمکی دی تھی کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان کے خلاف فوجی کارروائی کی تو وہ ان دھمکیوں کا بھرپور جواب دیں گے۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos