نیٹو کی گرین لینڈ میں سیکیورٹی مشقیں۔وائٹ ہاوس ملاقات سے کیا طے پایا؟

January 14, 2026 · بام دنیا

 

جرمن وزارت دفاع نے کہا ہے کہ جرمنی 15 سے 17 جنوری تک سیکیورٹی مشقوں پر مشتمل ایک مشن کے لیے 13 فوجی اہلکاروں پر مشتمل ٹیم گرین لینڈ بھیج رہا ہے۔ڈنمارک کی دعوت پر جرمنی دیگر یورپی ممالک کے ساتھ گرین لینڈ میں اس مشن میں حصہ لے گا۔اس کا مقصد خطے میں سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے،سمندری نگرانی کی صلاحیتوں میں مدد کے لیے ممکنہ فوجی شراکت کے ذریعے فریم ورک تلاش کرنا ہے۔

جرمن مسلح افواج کے 13 اہلکاروں پر مشتمل ٹیم کو ٹرانسپورٹ طیارے پر گرین لینڈبھیجے گی۔ دیگر شراکت دار ممالک سے نمائندوں کے ساتھ مل کر معلومات حاصل کی جائیں گی۔

 

جرمنی گرین لینڈ میں فوجی اہلکار تعینات کرنے میں سویڈن اور ناروے کے ساتھ شامل ہو گیا ہے۔ادھرڈینش وزیر خارجہ لارس لوکے راسموسن نےکہا کہ امریکہ ،ڈنمارک اور گرین لینڈ نےایک اعلیٰ سطح ورکنگ گروپ بنانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ آگے بڑھنے کا کوئی مشترکہ راستہ تلاش کیا جاسکے کیونکہ ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ بنیادی اختلاف برقرار ہے ۔ واشنگٹن ڈی سی میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے راسموسن نے کہا کہ انہوں نے اور ان کے گرین لینڈرہم منصب ساتھی نے امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو اور نائب صدر جے ڈی وینس کے ساتھ ایک واضح لیکن تعمیری بات چیت کی، لیکن اختلاف قائم ہے۔

 

ڈینش وزیرخارجہ کے مطابق ،ہم نے اتفاق کیا کہ اعلیٰ سطح پر بیٹھ کر یہ معلوم کرنے کی کوشش کرنا ہوگی کہ آیا صدر کے خدشات کو ایڈجسٹ کرنے کے امکانات موجود ہیں ۔راسموسن نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ بات چیت میں گرین لینڈ میں طویل مدتی سلامتی کو یقینی بنانے کے طریقوں پر توجہ مرکوز کی گئی ۔صدر نے اپنا نظریہ واضح کر دیا ہے، اور ہمارا موقف مختلف ہے، انہوں نے کہا کہ ڈنمارک اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ موجودہ فریم ورک کے اندر طویل مدتی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔وہ خیالات جو ڈ ینش سالمیت اور گرین لینڈ کے لوگوں کے حق خود ارادیت کا احترام نہیں کریں گے، بلاشبہ مکمل طور پر ناقابل قبول ہیں۔اس لیے ہمارا اب بھی بنیادی اختلاف ہے، لیکن ہم بات کرتے رہیں گے۔راسموسن نے کہا کہ ورکنگ گروپ کی چند ہفتوں کے اندر اندرپہلی ملاقات متوقع ہے۔

 

ڈنمارک کے ایک سفارتی ذریعے نے امریکی میڈیاکو بتایا کہ وائٹ ہاؤس میں گرین لینڈ پر ملاقات کے بعد محتاط امیدہے۔ اس ذریعے نے مزید کہاکہ یہ بہت زیادہ خراب ہو سکتا تھا، حالیہ بیان بازی کے باوجود میز پر ٹرمپ کا کوئی حتمی مطالبہ نہیں تھا۔ڈنمارک کے سفارت کار کا خیال ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تازہ تبصروں کے باوجود آگے بڑھنے کا راستہ موجود ہے جس میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ گرین لینڈ پر امریکی کنٹرول سے کچھ بھی کم ناقابل قبول ہے۔

پہلے کی پیش رفت میں،گرین لینڈ اور ڈنمارک کے وزرائے خارجہ نے واشنگٹن میں وائٹ ہائوس کے اعلی عہدیداروں سے ملاقات کی ۔نائب صدر جے ڈی وینس اوروزیرخارجہ مارکو روبیونے ڈنمارک کے وزیر خارجہ لارس لوکے راسموسن اور گرین لینڈ کے وزیر خارجہ ویوین موٹزفیلڈ کے ساتھ نیٹو کے اتحادی ڈنمارک کے نیم خودمختار علاقے گرین لینڈ کے بارے میں بات چیت میں حصہ لیا۔

 

بات چیت شروع ہونے سے چند گھنٹے قبل، ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا سائٹ پرکہاتھاکہ امریکہ کو قومی سلامتی کے مقصد کے لیے گرین لینڈ کی ضرورت ہے۔نیٹو کو ہمارے لیے اسے حاصل کرنے کا راستہ دکھانا چاہیے، بصورت دیگر روس یا چین ایسا کرلیں گے ،اوریہ نہیں ہونے والا ۔ٹرمپ کاکہناتھاکہ علاقے پر امریکی کنٹرول سے کم کوئی بھی چیز “ناقابل قبول” ہے۔یہ میزائل ڈیفنس پروگرام گولڈن ڈوم کے لیے بہت ضروری ہے۔ گرین لینڈ امریکہ کے ہاتھ میں ہونے سے نیٹوبھی کہیں زیادہ مضبوط اور موثر ہو گا۔اس کے جواب میں، امریکہ اور کینیڈا میں گرین لینڈ کے نمائندوں نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کیاآپ ہم سے کیوں نہیں پوچھتے؟انہوں نے جزیرے کے رہائشیوں کی واجبی شرح کا حوالہ دیا جو امریکہ کا حصہ بننے کے حق میں ہیں۔امریکہ میں گرین لینڈ کے نمائندے کا کہنا ہے کہ آخری بار جب گرین لینڈرز سے پوچھا گیا کہ کیا وہ امریکہ کا حصہ بننا چاہتے ہیں تو صرف 6 فیصد اس کے حق میں تھے۔

ڈنمارک اور گرین لینڈ کے وزرائے خارجہ کے ساتھ ملاقات کی میزبانی امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کی،جو ٹرمپ کے دعوے کوآگے بڑھانے کی زوردار وکالت کرتے ہیں لیکن مہان بھی ایک مضبوط موڈ میں دکھائی دیتے ہیں۔

ڈنمارک کا کہنا ہے کہ اس کی مسلح افواج گرین لینڈ میں اپنی موجودگی کو بڑھا دیں گی، ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اتحادیوں کے ساتھ قریبی تعاون میں کیا جائے گا، مزید کہا کہ آرکٹک میں جغرافیائی سیاسی تنائو پھیل گیا ہے۔تاہم،پولسن سے جب گرین لینڈ پر امریکی حملے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے اسے بہت ہی فرضی سوال قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ میں اس بات کا امکان نہیں سمجھتا کہ نیٹو کا کوئی ملک کسی دوسرے نیٹو ملک پر حملہ کرے گا۔ادھرسویڈن کے وزیر اعظم الف کرسٹرسن کے مطابق، سویڈش مسلح افسران ڈنمارک کی درخواست پر گرین لینڈ روانہ ہو رہے ہیں۔سویڈش وزیراعظم نے آن لائن کہا کہ وہ ڈینش فوجی مشقوں کی تیاری کریں گے۔ناروے کے وزیر دفاع نے خبر رساں ایجنسی کو بتایا ہے کہ ان کاملک آرکٹک میں نیٹو ارکان کے درمیان سکیورٹی تعاون کو تقویت دینے اور مستقبل کا روڈ میپ تشکیل دینے کے لیے دو فوجی اہلکار گرین لینڈ بھیجے گا۔