ایران پر 24 گھنٹوں میں حملے کا خدشہ ہے،مغربی ذرائع۔ حالات دیکھ رہے ہیں،ٹرمپ

مغربی ذرائع نے بین الاقوامی میڈیاکو بتایاہے کہ ،تمام اشارے ظاہرکرتے ہیں کہ ایران پر امریکی حملہ قریب ہے، لیکن یہ تاثر اس لیے بھی پیداہواہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ہر کسی کو تجسس میں رکھنے کے لیے ایسا ہی برتاؤ کرتی ہے۔ غیر متوقع پن، اس کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔دو یورپی حکام نے کہا کہ اگلے 24 گھنٹوں میں امریکی فوجی مداخلت آ سکتی ہے۔ ایک اسرائیلی اہلکار نے یہ بھی کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ ٹرمپ نے مداخلت کرنے کا فیصلہ کیا ہے، حالانکہ دائرہ کار اور وقت واضح نہیں۔

تاہم، خبررساں ادارے روئٹرزکے مطابق ،وائٹ ہاؤس میں، ٹرمپ نے مشورہ دیا کہ وہ انتظار کرواور دیکھو کی پالیسی اپنا رہے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ کا کہناتھا کہ انہیں یقین دلایا گیا ہے کہ ایرانی مظاہرین کی ہلاکتوں کو روک دیا گیا ہے، نہوں نے مزید کہا کہ وہ فوجی کارروائی کے بارے میں دیکھیں گے۔صدر نے ممکنہ امریکی فوجی کارروائی کو مسترد نہیں کیا لیکن کہا کہ ہم یہ دیکھنے جا رہے ہیں کہ اب عملی مرحلہ کیا ہے،ٹرمپ نے بتایاکہ اس سے پہلے ان کی انتظامیہ کو ایران کی طرف سے بہت اچھا بیان موصول ہوا ہے۔

ادھر اسلامی جمہوریہ ایران نے بغیر کسی وضاحت کے اپنی فضائی حدود تجارتی پروازوں کے لیے کئی گھنٹوں تک بند کر دی ہے۔ فلائٹ رارڈار24 کے مطابق، ایران میں بین الاقوامی اجازت یافتہ پروازوں کے لیے علاوں دیگر فلائٹس کےلیے فضائی حدود کم وبیش 2 گھنٹوں کے لیے بند کررہاہے۔

یروشلم میں امریکی سفارت خانےسے ایک نیا سیکیورٹی الرٹ شائع ہواہے جس میں امریکی شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ جاری علاقائی کشیدگی کے پیش نظر وہ کسی بھی سفری منصوبے پر نظرثانی کریں اور اپنے اور اپنے اہل خانہ کے لیے مناسب فیصلے کریں۔برطانیہ کے دفتر خارجہ نے اسرائیل کے لیے نئی ٹریول ایڈوائزری جاری کی ہے، جس میں برطانوی شہریوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ ضروری سفرکے علاوہ ایران جانے سے گریز کریں۔علاقائی کشیدگی میں اضافہ کا خطرہ ہے۔ اضافہ سفر میں خلل اور دیگر غیر متوقع اثرات کا باعث بن سکتا ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ تہران کی جانب سے مظاہرین کے لیے تیز رفتار ٹرائل کے پہلے وعدوں کے باوجود آج یا کل کوئی پھانسی نہیں دی جائے گی۔امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کے ساتھ ایک انٹرویو میں، عراقچی نے اصرار کیا کہ ایران کی اقتصادی مشکلات کے خلاف 10 دن کے پرامن مظاہروں کے بعد اسرائیل کی طرف سے تین دن تک تشدد کیا گیا، اور امن بحال ہو گیا۔میں آپ کو بتا سکتا ہوںکہ پھانسی دینے کا کوئی منصوبہ نہیں ۔اے ایف پی کے مطابق،مظاہروں کے دوران گرفتار ایک ایرانی شخص 26 سالہ عرفان سلطانی کی پھانسی پر اب تک عمل درآمد نہیں کیا گیا اور اسے ملتوی کر دیا گیاہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔