ٹرمپ نے حملہ آخر وقت میں رکوایا،ایرانی فضائی حدودکھلنے کامعمہ حل

January 15, 2026 · اہم خبریں, بام دنیا

اسرائیلی میڈیا کے مطابق ایران پر مجوزہ امریکی فوجی کارروائی آخری لمحات میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ذاتی مداخلت کے بعد روک دی گئی، حالانکہ مشن عملی نفاذ کے بالکل قریب پہنچ چکا تھا۔
اسرائیلی ویب سائٹ والا (Walla) کے فوجی تجزیہ کار امیر بوہبوٹ کے مطابق امریکی فضائیہ کارروائی کے لیے تیار تھی اور آپریشن اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا تھا۔رپورٹ کے مطابق قطر کے العدید ایئر بیس سے روانہ کیے گئے امریکی طیاروں اور دیگر عسکری وسائل کو فوری طور پر واپس بلا لیا گیا اور انہیں الرٹ پر رہنے کی ہدایت دی گئی۔ اسی کے ساتھ ایران کی فضائی حدود بھی دوبارہ کھول دی گئیں، جس سے عندیہ ملا کہ حملہ مکمل طور پر منسوخ کر دیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے مشیروں کو واضح کیا تھا کہ وہ صرف اسی صورت فوجی کارروائی کی اجازت دیں گے جب اس کا نتیجہ فیصلہ کن اور واضح ہو۔ امریکی حکام نے انہیں خبردار کیا کہ ایران پر حملہ نہ تو حکومت کے خاتمے کی ضمانت دے سکتا ہے اور نہ امریکہ خطے میں ایران کے ممکنہ بڑے پیمانے پر جوابی حملے کا مؤثر جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انہی خدشات کے باعث مجوزہ کارروائی کو آخری لمحے میں روک دیا گیا، کیونکہ کسی بھی حملے کے نتیجے میں پورے مشرقِ وسطیٰ میں بڑے پیمانے پر کشیدگی اور جنگ کے پھیلنے کا خطرہ موجود تھا۔

مزید پڑھیں:ایران نے اپنی فضائی حدود پانچ گھنٹے بعد دوبارہ کھول دی

 

قبل ازیں واشنگٹن سے موصولہ اطلاعات میں بتایاگیاتھاکہ امریکی صدر ٹرمپ ایران پر زور دار اور فیصلہ کن حملے کے حق میں ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ مختصر لیکن مؤثر کارروائی اورطویل جنگ سے گریز چاہتے ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی میڈیا نے بتایا کہ اسرائیلی آرمی چیف نے فوری دفاعی تیاریوں کا حکم دیا ہے اور شمالی اسرائیل سمیت مختلف علاقوں میں بم شیلٹر کھولنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ اسرائیل توقع کر رہا ہے کہ امریکا ایران پر کسی بھی ممکنہ حملے سے قبل وارننگ دے گا۔

جرمن ائیرلائن نے اسرائیل کے لیے رات کی پروازیں 19 جنوری تک معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایران میں سکیورٹی صورتحال کے باعث امریکا کے بعد اسپین، پولینڈ اور اٹلی نے اپنے شہریوں کو فوری طور پر ایران چھوڑنے کی ہدایت کی ہے۔

اطالوی وزارت خارجہ کے مطابق ایران میں تقریباً 600 اطالوی شہری موجود ہیں، جن میں اکثریت تہران میں مقیم ہے، اور انہیں سکیورٹی خدشات کے پیش نظر ملک چھوڑنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ پولینڈ کی وزارت خارجہ نے بھی اپنے شہریوں سے فوری انخلا یقینی بنانے کو کہا ہے۔

مزید برآں، برطانیہ نے ایران سے اپنے تمام سفارتی عملے کو واپس بلایا اور ایرانی حکام سے برطانوی سفیر کو واپس بلا لیا گیا۔دریں اثنا، پاکستان میں ایرانی سفیر رضاامیری نے کہا ہے کہ مجھے رات ایک بجے جگا کر بتایاگیا کہ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ جنگ نہیں کرنا چاہتے، اس لیے ایران بھی ہم پر حملہ نہ کرے۔