7جنوری کو امریکی اوراسرائیلی مداخلت پرحالات بگڑے،اب مکمل کنٹرول ہے،ایرانی سفیر

 

پاکستان میں ایرانی سفیر رضاامیری مقدم نے کہاہے کہ ایران میں حالیہ احتجاج عوام کا حق تھا اور ایرانی حکومت نے ان سے مذاکرات کیے۔ احتجاج کے بعد امریکی اور مغربی میڈیا نے لوگوں کو اکسا کر احتجاج کو پُرتشدد بنایا۔امیری نے کہا کہ7 جنوری کو ٹرمپ اور نیتن یاہو کی جانب سے بیانات کے ذریعے ایران میں مداخلت کی گئی۔

رضاامیری کے مطابق 7 جنوری کو صورتحال تبدیل ہوئی اور شرپسندوں کے پاس اسلحہ آ گیا، قتل عام ہوا، لوگوں کے سر کاٹے گئے۔ بہت سے افراد کی شناخت ممکن نہیں رہی، اب ڈی این اے کے ذریعے شناخت کی جائے گی۔ وحشیانہ کارروائیاں ہوئیں۔ مساجد اور امام بارگاہوں پر حملے کیے گئے۔

ایرانی سفیرنے کہا کہ یہ ہماری تاریخ کے بدترین واقعات تھے۔ نرسوں کو اسپتالوں میں اور نمازیوں کو مساجد میں زندہ جلا دیا گیا۔اس وقت صورتحال مکمل طور پر کنٹرول میں ہے، تاہم ہمیں اس میں تین دن لگے۔اس وقت ایران میں کوئی مظاہرے نہیں ہو رہے، لیکن امریکا اور اسرائیل کی جانب سے دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ہم امریکا اور اسرائیل سے کہتے ہیں کہ حملہ کر کے دیکھیں، اگر وہ کر سکتے ہیں۔ہماری فوج مکمل طور پر تیار ہے۔ ایران میں اس وقت ہائی الرٹ ہے۔ ہم اسرائیل اور امریکا کی تمام تنصیبات پر حملے کریں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔