ریاض: سعودی عرب کے ایک سینئر عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ سعودی عرب، قطر اور عمان نے مشترکہ طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران پر ممکنہ فوجی حملے سے باز رکھنے کے لیے آخری لمحات میں بھرپور سفارتی کوششیں کیں، کیونکہ خلیجی ممالک کو خدشہ تھا کہ ایسا حملہ پورے خطے کے لیے سنگین اور ناقابلِ کنٹرول نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے سعودی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ خلیجی ممالک نے ایک طویل اور انتہائی دباؤ سے بھرپور سفارتی رابطہ مہم چلائی تاکہ صدر ٹرمپ کو اس بات پر آمادہ کیا جا سکے کہ وہ ایران کو اپنی نیت بہتر ثابت کرنے کا ایک موقع دیں۔ ان کے مطابق یہ رابطے اب بھی جاری ہیں تاکہ پیدا ہونے والے اعتماد اور مثبت فضا کو برقرار رکھا جا سکے۔
یہ سفارتی سرگرمیاں ایسے وقت میں ہوئیں جب بدھ کے روز قطر میں قائم ایک بڑے امریکی فوجی اڈے سے کچھ عملے کو منتقل کیا گیا، جبکہ سعودی عرب اور کویت میں امریکی سفارتی مشنز کے عملے کو احتیاط برتنے کی ہدایات دی گئیں۔ اس صورتحال نے ایران کے خلاف امریکی حملے کے خدشات کو مزید تقویت دی۔
امریکا کی جانب سے بارہا یہ انتباہ دیا گیا تھا کہ اگر ایران میں مظاہرین کے خلاف پرتشدد کارروائیاں جاری رہیں تو واشنگٹن مداخلت کر سکتا ہے، جبکہ ایران نے واضح طور پر خبردار کیا تھا کہ کسی بھی امریکی اقدام کے جواب میں وہ خلیج میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور بحری جہازوں کو نشانہ بنائے گا۔ خلیجی خطے میں امریکی فوجی تنصیبات اور اثاثے بڑی تعداد میں موجود ہیں، جس سے کشیدگی مزید خطرناک رخ اختیار کر سکتی تھی۔
سعودی عہدیدار کے مطابق خلیجی ممالک نے واشنگٹن کو دوٹوک انداز میں آگاہ کیا کہ ایران پر حملہ پورے خطے میں شدید ردِعمل اور غیر متوقع نتائج کو جنم دے گا، جنہیں سنبھالنا ممکن نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ مقصد ایک ایسی صورتحال سے بچنا تھا جو مکمل طور پر قابو سے باہر ہو سکتی تھی۔
چند سخت بیانات کے بعد صدر ٹرمپ نے مؤقف میں نرمی اختیار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں “دوسری جانب سے انتہائی اہم ذرائع” کے ذریعے یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ ایران مظاہرین کو پھانسی نہیں دے گا۔ اسی پیش رفت کے بعد فوری فوجی کارروائی کا امکان وقتی طور پر ٹل گیا۔
ایک اور خلیجی عہدیدار نے بتایا کہ ایران کو یہ واضح پیغام پہنچا دیا گیا ہے کہ اگر خلیج میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تو اس کے علاقائی ممالک کے ساتھ تعلقات پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔ سعودی عہدیدار کے مطابق یہ ایک ایسی رات تھی جس میں پورا خطہ مزید تباہی سے بچانے کے لیے مسلسل رابطے اور دباؤ جاری رہا، اور اب بھی سفارتی کوششیں جاری ہیں تاکہ کشیدگی دوبارہ نہ بڑھے۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos