مارک کارنی نے شی جنگ پنگ سے ملاقات کی۔

کینیڈا نے چین سے اسٹریٹجک شراکت داری کا اعلان کردیا، امریکہ تنہا

کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے چین کے ساتھ ’’نئی اسٹریٹجک شراکت داری‘‘ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ بدلتی ہوئی عالمی صورتحال میں دونوں ممالک ماضی کے تجربات کی بنیاد پر ایک نیا تعلق قائم کر سکتے ہیں۔ یہ بات انہوں نے بیجنگ میں چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کے دوران کہی، جو آٹھ برس بعد کسی کینیڈین رہنما کا چین کا پہلا دورہ ہے۔

کینیڈا کے وزیراعظم کے اس اعلان سے امریکہ کی عالمی تنہائی بڑھتی دکھائی دے رہی ہے جو پہلے ہی گرین لینڈ کے معاملے پر اپنے یورپی اتحادیوں سے دور ہو چکا ہے۔

بیجنگ کے گریٹ ہال آف دی پیپل میں گفتگو کرتے ہوئے مارک کارنی نے کہا کہ باہمی روابط اور تعاون اس نئی شراکت داری کی بنیاد ہوں گے، جبکہ زراعت، توانائی اور مالیات ایسے شعبے ہیں جہاں فوری پیش رفت ممکن ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کینیڈا چین کے ساتھ تعلقات کو نئے عالمی تقاضوں کے مطابق ڈھالنا چاہتا ہے۔

کینیڈا اور چین کے تعلقات گزشتہ برسوں میں شدید کشیدگی کا شکار رہے، جس کی وجہ ایک دوسرے کے شہریوں کی جوابی گرفتاریاں، تجارتی تنازعات اور باہمی ٹیرف شامل تھے۔ تاہم مارک کارنی نے ان اختلافات سے آگے بڑھنے کی کوشش کی ہے۔ یہ پیشرفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کینیڈین مصنوعات پر بھاری محصولات عائد کرنے کے بعد سامنے آئی ہے۔

چینی صدر شی جن پنگ نے مارک کارنی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اکتوبر 2025 میں اپیک اجلاس کے موقع پر ہونے والی ملاقات کے بعد چین اور کینیڈا کے تعلقات ایک اہم موڑ پر پہنچ چکے ہیں۔ ان کے مطابق گزشتہ سال کی ملاقات نے دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کی نئی راہ ہموار کی۔

چین اور کینیڈا کے تعلقات 2018 میں اس وقت بگڑ گئے تھے جب کینیڈا نے ہواوے کے بانی کی بیٹی مینگ وانژو کو امریکی وارنٹ پر گرفتار کیا، جس کے جواب میں چین نے دو کینیڈین شہریوں کو حراست میں لے لیا۔ بعد ازاں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی برآمدات پر ٹیرف بھی عائد کیے اور چین پر کینیڈا کے انتخابات میں مداخلت کے الزامات بھی لگے۔

مارک کارنی، جو چینی وزیر اعظم لی چیانگ سے بھی ملاقات کر چکے ہیں، چینی کاروباری رہنماؤں سے بھی بات چیت کریں گے تاکہ تجارتی روابط کو فروغ دیا جا سکے۔ کینیڈا طویل عرصے سے امریکا کا قریبی اتحادی رہا ہے، مگر حالیہ تجارتی جنگ کے باعث اسے اپنی برآمدات متنوع بنانے کی فوری ضرورت ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں امریکا نے کینیڈا کی تقریباً 75 فیصد برآمدات خریدیں، جبکہ چین دوسرا بڑا مگر کہیں پیچھے رہ جانے والا بازار رہا، جہاں کینیڈا کی چار فیصد سے بھی کم برآمدات جاتی ہیں۔ دونوں ممالک کے حکام ٹیرف کم کرنے اور دوطرفہ تجارت بڑھانے پر بات چیت کر رہے ہیں، تاہم تاحال کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔